Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

بنیاد نہیں بن سکتا ۔ وہ صرف مسلم دشمنی کی منفی بنیاد پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ مگر منفی بنیاد کبھی کسی قوم کو ترقی کی طرف نہیں لے جاسکتی۔ یہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو چیز پسندیدہ ہے وہ ممکن نہیں، اور جو ممکن ہے وہ پسندیدہ نہیں : What is desirable is not possible and what is possible is not desirable. یہ صرف ہند و ازم کی بات نہیں ۔ یہی اسلام کے سوا تمام مذاہب کی بات ہے۔ یہ تمام مذاہب محرف مذاہب ہیں۔ وہ تحریف کے نتیجہ میں غیر عقلی بن چکے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں موجودہ قو میں اس صورتحال سے دو چار ہیں کہ ان کا قومی مذہب قابل عمل نہیں ہے۔ اور اسلام قابل عمل ہے مگر قومی تعصب کی بنا پر وہ اس کو اختیار نہیں کرتے۔ یہ دو قسم کے تضاد ہیں جن میں آج کی تمام تو میں مبتلا ہیں۔ دنیا کو اس تضاد سے نکالنا ، یہی آج دعوتی اعتبار سے کرنے کا سب سے بڑا کام ہے۔ ۲۵ ستمبر کی شام کا وقت ہے۔ میں اپنے کمرہ کی پشت کی بالکنی پر کھڑا ہوں۔ سامنے حد نظر تک سمندر (میڈی ٹیرینین) پھیلا ہوا ہے ۔ سمندر میں کچھ تفریحی کشتیاں نظر آئیں جو اپنے مسافروں کے ساتھ سمندر میں تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی تھیں ۔ فضا میں کچھ سمندری چڑیاں منڈلارہی تھیں جو بار بار مچھلی پکڑنے کے لئے پانی میں گرتی تھیں۔ ساحل سے ملی ہوئی سڑک پر دوڑتی ہوئی کاروں کا منظر تھا جو اپنے مسافروں کو لئے ہوئے مسلسل چلی جارہی تھیں۔ ان چیزوں کو دیکھ کر میری سمجھ میں آیا کہ ولقد كرمنا بني آدم وحملناهم في البر والبحر کا مطلب کیا ہے اور اس میں انسان کے لئے جس ”تکریم کا ذکر ہے ، اس سے کیا مراد ہے۔ وہ یہ کہ انسان کے ساتھ حملنا کا معاملہ کیا گیا ہے، جب کہ حیوانات کے ساتھ حملنا کا معاملہ نہیں کیا گیا ۔ پاؤں والے جانور اپنے پیروں پر چلتے ہیں۔ مچھلیاں اپنی طاقت سے تیرتی ہیں۔ چڑیاں اپنے بازوؤں کے ذریعہ اڑتی ہیں، مگر انسان سواری پر بیٹھ کر اپنا راستہ طے کرتا ہے۔ خشکی میں اس کے لئے گاڑی ہے۔ سمندروں میں اس کے لئے کشتی ہے اور فضاؤں میں اس کے لئے ہوائی جہاز ہے۔ گویا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page