ایک سفر
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے لئے اللہ تعالیٰ نے شاناً نہ معاملہ فرمایا ہے۔ جو لوگ اس عطیہ الہی کا حقیقی احساس کر کے اس چیز کا ثبوت دے سکیں جس کو حمد اور شکر کہا گیا ہے، ایسے لوگوں کے ساتھ آخرت میں کبھی شاناً نہ معاملہ کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : "وإذا رأيت ثم رأيت نعيمًا وملكا كبيرا یہاں جو لوگ جمع تھے، ان کی بہت بڑی تعداد بچوں کہ مجھ کو جانتی تھی، اس لئے اکثر ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ تاہم جس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو ہوئی وہ یہ تھا کہ اسلام کے احیاء کے لئے موجودہ زمانہ میں ہمیں کیا کام کرنا ہے۔ جن لوگوں کو عالم اسلام کے تعلیم یافتہ لوگوں کا تجربہ ہے، وہ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بیشتر تعداد "تغییر نظام" کی اصطلاح میں سوچتی ہے۔ جمال الدین افغانی، سید قطب، آیات اللہ خمینی، اقبال اور ابو الا علی مودودی وغیرہ کا طرز فکر زیادہ تر لوگوں کے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ اسلامی کام کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومتی نظام کو توڑ کر اقتدار پر قبضہ کیا جائے ۔ اس کے بغیر اسلام کو زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے ہر مجلس میں اس نقطہ نظر کی مکمل تردید کی ۔ میں نے کہا کہ تغییر نظام کا نظریہ کوئی نظریہ نہیں، یہ صرف رد عمل ہے۔ ایک عرب انجینئر نے بتایا کہ ہمارے ملک میں ۱۹۸۸ میں پیٹرولیم انجینئرنگ پر ایک سیمنار ہوا ۔ اس میں یورپی ملکوں کے لوگ بھی بلائے گئے تھے ۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر برنر کیمبل (Burner Campbel) تھے جو ایل پی جی (Liquified petroleum gas) کے ماہر تھے ۔ ان کو میں نے آپ کی کتاب " گاڈ آرائٹز " پڑھنے کے لئے دی۔ اس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے گہرا اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ جانا کہ اگر زمین پر کوئی مذہب واقعی منطقی مذہب (Logical religion) ہے تو وہ اسلام ہی ہو سکتا ہے۔ اور اگر کبھی مستقبل میں میں نے اپنا مذہب بدلنے کا فیصلہ کیا تو میں اسلام کا انتخاب کروں گا۔ انھوں نے گاڈ آرائٹز کے بارہ میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: Even English speaking scientists in the west can not write such a book on this subject. اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات کے سلسلہ میں اور بھی کئی لوگوں نے اعلیٰ تاثر کا اظہار کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader