Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 276

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کی اکثریت نے جارحیت کے مسئلہ کو نظر انداز کیا۔ وہ صرف یہ کہتی رہی کہ سعودی عرب نے کیوں امریکہ کو بلایا اور امریکہ کی فوجیں کیوں خلیج میں داخل ہوگئیں ۔ چنانچہ موجودہ موتمر میں آنے والے لوگوں کی بیشتر تعداد کی سوچ بھی یہی تھی۔ یہ معاملہ موجودہ مسلمانوں کی ایک کمزوری کو بتاتا ہے۔ موجودہ مسلمان ہر معاملہ میں " بغض معاویہ" کی نفسیات کے تحت سوچتے ہیں ۔ وہ " حب علی " کی نفسیات کے تحت سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے زعماء ، ان کے اخبارات ، ان کے جلسے ، صبح و شام صرف ایک بات کا اعلان کرنے میں مصروف ہیں ۔ اور وہ " اعداء اسلام" کا مسئلہ ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا صرف یہ خبر دے رہا ہے کہ اسلام دشمنوں نے ہمارے اوپر حملہ کر رکھا ہے اور ہمیں ان کے خلاف اٹھنا چاہئے۔ اس قسم کی باتوں نے مسلمانوں کے اندر مستقل طور پر" بغض معاویہ" کی نفسیات پیدا کر رکھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معاملہ میں ان کا طرز فکر منفی طرز فکر ہوتا ہے۔ اسی طرف فکر کا ایک مظاہرہ خلیج کے بحران کے سلسلہ میں ہوا ہے۔ مسلمان اگر معتدل نفسیات میں جی رہے ہوتے تو وہ اس معاملہ میں صدام حسین کی جارحیت کو سب سے زیادہ قابل مذمت چیز سمجھتے۔ مگر ان کی غیر معتدل نفسیات کا یہ نتیجہ ظاہر ہوا ہے کہ ان کی ساری توجہ صرف " دشمن اسلام" امریکہ کی کارروائی کی طرف چلی گئی ، وہ صدام حسین کی خلاف حق کارروائی کو دیکھنے سے قاصر رہی۔ ایک تعلیم یافتہ عرب سے اس حدیث پر گفتگو ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لا الہ الا اللہ کے قول سے اپنے ایمان کی تجدید کرو (جددوا ایمانکم بقول لا الہ الا اللہ) ، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تجدید کرو، یہ نہیں فرمایا ہے کہ تکرار کرو ۔ یہاں جددوا کا لفظ تکرار کے معنی میں نہیں ہے بلکہ تفکیر کے معنی میں ہے ۔ لا الہ الا اللہ ایک حقیقت ہے ، بلکہ وہ سب سے بڑی حقیقت ہے ، اس کی کوئی حد نہیں۔ جب بھی آپ اس پر غور کریں تو آپ اس میں نئی بات پائیں گے ۔ پس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ توحید کی حقیقت میں غور کرو ، اس طرح تمہارا ایمان بڑھتا رہے گا: ان الرسول صلى الله عليه وسلم قال جددوا ولم يقل كرروا، فكلمة

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page