Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

"جددوا" ههناليس بمعنى التكرار بل بمعنى التفكير" لا اله الا الله" هي حقيقة بل اكبر من كل الحقائق فلا نهاية لها. وكلما فكرت فيها ادركت منها شيئاً جديدا۔ فمعنى الحديث، عليكم ان تتفكروا او تتفكروا في حقيقة التوحيد فتزداد معرفتكم. ایک صاحب نے کہا کہ آپ اکثر اپنی تحریر رواں میں سائنس، نظریات سے اسلام کی صداقت ثابت کرتے ہیں۔ اگر بعد کو یہ سائنسی نظریات غلط ثابت ہو جائیں تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات غلط ہیں۔ میں نے کہا کہ جو شخص اس قسم کی بات کرے اس سے آپ کو کہنا چاہئے کہ تمہارا اعتراض غلط ہے۔ تم اسلام کی اصل تعلیم کو دیکھو نہ کہ ایک شخص کی تفسیر کو۔ کیوں کہ جو چیز غلط ثابت ہوئی ہے وہ ایک شخص کی تفسیر ہے نہ کہ خود اسلام کا متن۔ دوسری بات یہ کہ یہ ایک ناقابل حل چیز ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے کہ اعدوالهم ما استطعتم من قوة اس آیت کے بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آلہ ان القوة الرمي الا ان القوة الرمي (قوت سے مراد تیر مارنا ہے، قوت سے مراد تیر مارنا ہے) یہ واضح طور پر آیت کی زمانی تفسیر ہے نہ کہ ابدی تفسیر ۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ میں یہ تفسیر نہ کرتے اور یہ سمجھ کر چھوڑ دیتے کہ آئندہ یہ تفسیر لوگوں کو غلط نظر آئے گی تو یہ حکمت کے خلاف ہوتا۔ کیوں کہ تفسیر نہ کرنے کی صورت میں آیت کا وہ زمانی فائدہ حاصل نہ ہوتا جس کو حاصل کرنا ضروری تھا۔ ایک صاحب علم النفس کے ڈاکٹر تھے۔ انھوں نے کہا کہ انسان کے اخلاقی اوصاف میں کسی خارجی عنصر کا کوئی دخل نہیں ہے۔ وہ صرف کیمیائی عمل (chemical reactions) کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً نفرت اور محبت، معافی اور انتقام، دینا اور چھینا، سب جسم کے اندر کیمیائی تبدیلیوں کے سبب سے ظہور میں آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر اس کو مان لیا جائے تو منطقی طور پر اس کا کوئی جواز نہیں رہتا کہ کسی مجرم کو سزا کیوں دی جائے۔ سزا کا تصور لازمی طور پر ارادہ کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر کسی کے جرم میں اس کا اختیار اور ارادہ شامل نہ ہو تو اس کو اس کے کسی جرم پر سزا دینا کس طرح جائز ہوگا۔ ایک صاحب مغرب کے تعلیم یافتہ تھے۔ ان سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء پر گفتگو ہوئی۔ میں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page