ایک سفر
Urdu book, p. 279
By Maulana Wahiduddin Khan
حق کی حیثیت یہی ہے ۔ دعوتِ حق لوگوں کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کرنا چاہتی ہے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے سطحی مفکرین نے دعوت کو بھی چھیننے کا ایک معاملہ بنا دیا ہے۔ انھوں نے دعوت کی تعبیر سیاست کے انداز میں کی۔ انھوں نے دعوت کا مطلب یہ بتایا کہ اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی قانون کو زمین پر نافذ کیا جائے ۔ دعوتِ اسلامی کی یہ تعبیر مجرمانہ حد تک غلط ہے۔ اس کے نتیجہ میں داعی اور مدعو کے درمیان غیر ضروری سیاسی نزاع قائم ہو گئی۔ وہ ربانی مہم جو دراصل دینے کی مہم تھی ، وہ بالکل غلط طور پر چھینے کی مہم بن کر رہ گئی ہے۔ عربوں کی ایک مجلس میں مسلمانوں کے کردار پر گفتگو ہو رہی تھی۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ موجودہ مسلمانوں میں کردار کی بہت کمی ہو گئی ہے ، اس لئے ان کے درمیان کوئی بڑی مہم کامیاب نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ کردار ، کردار کہنے سے کردار پیدا نہیں ہوتا۔ جس طرح درخت ، درخت کہنے سے درخت نہیں اگتا ۔ درخت بیج بونے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی انسانی کردار کا معاملہ بھی ہے ۔ انسانی کردار کا ایک بیج ہے ، اور وہ بیج مقصد ہے۔ مقصد کا شعور ہی آدمی کے اندر وہ اعلیٰ اوصاف پیدا کرتا ہے جس کو کردار کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ مقصد جتنا زیادہ بڑا ہو گا ، کردار بھی اتنا ہی بڑا بنے گا ۔ موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے مقصد کا احساس کھو دیا ہے، اس لئے وہ کردار بھی کھوئے ہوئے ہیں : بقد وما يكون الهدف عظيما فسوف تكون الاخلاق عظيمة . ان أكبرمشكلة في المسلمين المعاصرين انهم قد فقد واالهدف العظيم لهذا افهم قد فقد وا الاخلاق العظيمة ایک مجلس میں میں نے کہا کہ آجکل مسلمانوں کے جس اجتماع میں جائیے یا جس مجلس میں بیٹھے ، ہر جگہ " اعداء اسلام" کے بارہ میں باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ میرے نزدیک یہ ظرف ترستی بھی ہے اور خلاف اسلام بھی ۔ اگر موجودہ صورت حال کو خالص عقلی اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے ساتھ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان کی اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ اور اگر اس کو دینی اعتبار سے جانچا جائے تو یہ خدا کی طرف سے انتباہ ہے تاکہ مسلمان جاگیں اور اپنی دینی کوتاہیوں کو دور کریں۔ مگر ان چیزوں کو اعداء اسلام کے خانہ میں ڈالنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ موجودہ صورت حال سے مسلمانوں کے اندر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader