Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 278

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا کہ میں ڈارونزم کو نہیں مانتا۔ وہ حیرت کے ساتھ میرا چہرہ دیکھنے لگے، انھوں نے کہا کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا، تو ایک ثابت شدہ نظریہ ہے، پھر کس طرح آپ اس کا انکار کر سکتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے ثابت شدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس نظریہ کے علما نے بندرسے لے کر انسان تک کے تمام ڈھانچے (اسکل) جمع کئے ہیں۔ ان کو سلسلہ وار رکھ کر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایک تدریجی تبدیلی (Gradual change) ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ "تبدیلی" کہتے ہیں ، اس کو اگر میں "فرق" کہوں تو آپ کے پاس اس کی تردید کی کیا دلیل ہوگی۔ یہ صحیح ہے کہ حیوانات کے درمیان بناوٹ کی مشابہت ہے۔ اسی طرح انسان اور حیوان کے ڈھانچہ میں بھی مشابہت ہے۔ مگر جب تک تجرباتی طور پر یہ ثابت نہ ہوجائے کہ ایک نوع سے دوسری نوع نکلی ہے، اس وقت تک ڈھانچہ کی اس مشابہت کو تبدیلی کی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ موجودہ حالت میں یہ مشابہت صرف فرق کو بتا رہی ہے۔ یعنی ہر ڈھانچہ اپنی ایک مستقل نوع کو بتا رہا ہے، نہ یہ کہ ایک سے دوسرا نکلا ، دوسرے سے تیسرا، اور تیسرے سے چوتھا۔ اور اس طرح ہوتے ہوتے انسان بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظریہ ارتقا کی بنیاد صرف خود ساختہ توجیہات پر ہے نہ کہ حقیقہً مشاہدہ اور تجربہ پر۔ عربوں کی ایک مجلس میں موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں کا ذکر آیا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کی تحریکیں آندھی کی طرح اٹھیں مگر نتیجہ کے اعتبار سے بے حقیقت ہو کر رہ گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ تحریکیں لینے کے نام پر اٹھیں ، جب کہ اس دنیا میں کامیابی اس کے لئے ہے جو دینے کے لئے اٹھے۔ سب سے پہلی تحریکیں وہ ہیں جو استعمار کے خلاف اٹھیں۔ وہ مغربی قوموں سے ان کی غالبیت چھیننا چاہتی تھیں۔ اسلام پسند تحریکوں نے مسلم حکمرانوں سے ان کا اقتدار چھینے کا نشانہ دیا۔ فلپائن، برما، اریٹیریا جیسے ملکوں کے مسلم لیڈر اپنے ملک کے غیر مسلم لیڈروں سے حق حکومت چھیننا چاہتے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملکوں کے مسلمان وہاں کے اکثریتی طبقہ سے یہ حق چھیننا چاہتے ہیں کہ وہ سڑکوں پر اپنا جلوس نکالیں یا اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کریں۔ اس طرح موجودہ زمانہ کی تمام تحریکیں "چھینے" کا نشانہ لے کر اٹھیں۔ مگر صحیح اسلامی تحریک وہ ہے جو دینے کے لئے اٹھے۔ جس کا مقصد دوسروں کو وہ چیز دینا ہے جو ان کے لئے مفید ہے۔ دعوت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page