Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 287

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاز میں پاکستانی اخبارات نوائے وقت، جنگ، جسارت، دی نیشن پڑھ رہا تھا۔ اس دوران یہ آیت یاد آئی : یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلا يستطيعون (القلم ۴۲) میں نے کہا کہ اس آیت میں "سجدہ" کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اصل میں یہ محرومی کا ایک وسیع تجربہ ہے جو آدمی کے اوپر قیامت میں گزرے گا۔ مالک کائنات اپنے تمام جلال و کمال کے ساتھ انسان کے سامنے ظاہر ہو جائے گا۔ اس وقت آدمی خدا کو دیکھنا چاہے گا مگر وہ اس کو نہ دیکھ سکے گا۔ کیوں کہ دنیا میں وہ خدا کو دیکھنے کے لئے اندھا بنارہا۔ وہ خدا کی حمد کرنا چاہے گا مگر وہ اس کی حمد نہ کر سکے گا، کیوں کہ دنیا میں خدا کی حمد کرنے سے اس کی زبان گونگی ہو گئی۔ وہ خدا کی باتوں کو سننا چاہے گا مگر وہ اس کو نہ سن سکے گا۔ کیوں کہ دنیا میں خدا کی باتوں کو سننے کے لئے اس نے اپنے کان بند کر لئے تھے۔ وہ چاہے گا کہ اپنے رب کی عظمت کے اعتراف میں اس کے آگے جھک جائے مگر وہ اس کے آگے نہ جھک سکے گا، کیوں کہ دنیا میں وہ اس کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہوسکا۔ روزنامہ جنگ (۳ اکتوبر ۱۹۹ ) کے صفحہ اول پرویز اوریم پاکستان غلام مصطفی جٹوئی کی ایک تقریر درج تھی۔ اس میں انھوں نے کہا کہ لوگوں کو کوئی چیز احتساب سے نہیں بچا سکتی۔ اور یہ کہ " ۴ اکتوبر ان کے لئے یوم حساب ثابت ہوگا۔ اس خبر کا عنوان روزنامہ جسارت (۳ اکتوبر ) میں یہ تھا : کوئی سازش بد عنوانوں کو احتساب سے نہیں بچا سکتی۔ میں نے سوچا کہ پاکستان کا ۲۴ اکتوبر (الیکشن ) وہ یوم حساب ہے جو انسان صرف اپنی محدود طاقتوں کے ذریعہ برپا کرتا ہے۔ ایسے یوم حساب سے بچ نکلنا بہت آسان ہے۔ جیسا کہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے احتساب کے باوجود پیپلز پارٹی دوبارہ زندہ رہی۔ مگر انسان پر ایک اور یوم حساب آنے والا ہے۔ اس سے کوئی شخص بھی بچ نہ سکے گا۔ حتیٰ کہ صدر اور گورنر اور وزیر اعظم بھی نہیں۔ چوں کہ پاکستان میں الیکشن قریب ہے، اس لئے ہر لیڈر بے تکان بول رہا ہے۔ تمام اخبارات لیڈروں کے بیانوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہر ایک اپنے کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ آج ہر آدمی کے پاس الفاظ ہیں۔ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ کسی کے پاس الفاظ نہیں ہوں گے۔ اس وقت صرف وہ شخص بول سکے گا جو دنیا میں خدا کے خوف سے چپ ہو گیا تھا۔ اس دن صرف اس شخص کو چلنے کی سعادت حاصل ہوگی جس کے قدم خدا کی عظمت کے احساس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page