Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

سے موجودہ دنیا میں رک گئے تھے۔ جسارت کے صفحہ اول کی ایک خبر کی سرخی بیٹھی: نواز شریف نے ملکی سیاست کو لسانی اور گروہی سیاست کی نذر کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ کی قرار داد۔ نواز شریف صاحب اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر ہیں، اور جماعت اسلامی اس اتحاد میں پوری طرح شامل ہے۔ اس کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف اخبار میں اس قسم کے بیان چھپ رہے ہیں۔ اس خبر کو میں نے پڑھا تو میری زبان پر یہ الفاظ آگئے: وہ اتحاد بھی کیسا عجیب اتحاد ہو گا جو ملک کو گروہی سیاست کے خانوں میں بانٹ دے۔ شام کو جہاز دمشق پہنچا۔ جہاز سے اتر کر کچھ وقت دمشق کے ہوائی اڈہ پر گزرا۔ ارا۔ مغرب کی نماز بھی جماعت کے ساتھ دمشق کے ہوائی اڈہ پر پڑھی۔ دمشق کا نام سب سے پہلے میں نے غالباً دُس سال کی عمر میں سنا جب کہ مولانا فیض الرحمان اصلاحی (وفات ۸ فروری ۱۹۷۲ء) کے ذریعہ میں نے شیخ سعدی شیرازی (۱۲۹۲ - ۱۳۱۳ء) کی فارسی کتاب بوستاں پڑھی۔ یہ منظوم کتاب اخلاقی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کی ایک حکایت اس شعر سے شروع ہوتی ہے : چنان قحط سالی شد اندر دمشق کہ یاران فراموش کردند عشق اس نظم میں دمشق کے ایک قحط کا ذکر ہے جس میں عشق کرنے والے اپنا عشق بھول گئے تھے۔ شیخ سعدی نے قحط کی تصویر کشی کرتے ہوئے جو اشعار لکھے ہیں، ان میں سے ایک شعر یہ ہے : نہ بر کوه سبزه نه در باغ شخ تلخ بوستاں خور دو مرد م تلخ نہ پہاڑ پر ہر یالی باقی رہی اور نہ درخت پر شاخ، ہڈیاں باغ کو کھا گئیں اور لوگوں نے ہڈیوں کو ) دمشق ایک ایسا شہر ہے جو اسلامی قافلہ کے سفر کے تیسرے مرحلہ کی یاد دلاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، امیر معاویہ نے دمشق کو اسلامی سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔ یہاں سے اسلام کی تاریخ کا تیسرا دور شروع ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز ۶۱۰ء میں ہوا۔ اس وقت مکہ اسلامی دعوت کا مرکز تھا۔ ۶۲۲ء میں ہجرت ہوئی اور مدینہ اسلام کا مرکز قرار پایا۔ بنو امیہ کے ہاتھ میں اقتدار آیا تو انھوں نے ۶۶۱ء میں دمشق کو اسلام کے مرکز کی حیثیت دے دی۔ ۵۰ ۷ء میں بنو عباس اسلامی اقتدار پر قابض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page