ایک سفر
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
آخرت میں مجھ سے کہہ دیا جائے کہ عمل کی قیمت دینے سے تم کو مستثنیٰ کر دیا گیا ہے ۔ نیز تم کو اس سے بھی مستثنیٰ کر دیا گیا ہے کہ تم کو فرشتوں کی جانچ کے مرحلہ سے گزرناپڑے۔ اور اللہ کے لئے یقیناً ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ ۴ اکتوبر کو ظہر کی نماز گلشن اقبال (بلاک نمبر 7) کی جامع مسجد میں پڑھی۔ پوری مسجد ایک بڑے ہال کی صورت میں ہے۔ اس کے اندر اور باہر بالکل فطرت کا ماحول ہے۔ نماز پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں ایک روحانی مرکز میں ایک روحانی عمل ادا کر رہا ہوں۔ جب میں مسجد کے اندر بیٹھا ہوا تھا ، مجھے خیال آیا کہ اگر مسلمان ان تمام جھگڑوں کو ختم کر دیں جن کو وہ اسلام کے نام پر غیر ضروری طور پر جاری کئے ہوئے ہیں، اور اسلام کی نمائندگی کے لئے صرف اس قسم کی مسجدیں دنیا میں باقی رہیں تو دنیا کی آدھی آبادی صرف ان مسجدوں کو دیکھ کر اسلام قبول کرلے۔ دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں کے مقابلہ میں مسجد کا ماحول نہایت فطری اور سادہ ہوتا ہے۔ مگر مسلمانوں کی بے فائدہ سیاسی اور مادی اور قومی ہنگامہ آرائیوں نے اسلام کے اس فطری حسن پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اگر مسلمان صرف اتنی قربانی کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تو اسلام اپنے آپ دنیا کو اپنی طرف کھینچے گا اور لوگ جوق در جوق دین فطرت کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گے۔ ایک پاکستانی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اس سال ہائی اسکول پاس کیا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں ہندولڑکے تعلیم کے میدان میں مسلمان لڑکوں سے آگے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ، یہ بات صحیح ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے ایک استاذ نے ایک مرتبہ یہی بات ہم لوگوں سے کہی۔ انھوں نے اس کا راز یہ بتایا کہ ہندو لڑکوں میں مل کر پڑھنے (combined study) کا رواج ہے۔ مل کر پڑھنے سے ہر ایک کو دوسرے کی معلومات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے ، ایک طالب علم ذاتی طور پر پڑھے تو اس کو ایک درجہ فائدہ ملے گا۔ مگر جب کئی طالب مل کر مطالعہ کریں تو ہر ایک کو کئی گنا زیادہ فائدہ ملنے لگتا ہے۔ کراچی کے روزنامہ جنگ (۳ اکتوبر) میں "جنگ الیکشن سیل" کی طرف سے ایک تجزیہ چھپا تھا۔ اس میں 1988 میں ہونے والے الیکشن کی ان ۴۳ نشستوں کا ذکر تھا جو اسلامی جمہوری اتحاد اور دوسری جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو مل گئیں۔ ان جماعتوں میں ووٹ بٹ جانے کے باعث پیپلز پارٹی جیت گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader