Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 293

By Maulana Wahiduddin Khan

مضمون میں بتایا گیا تھا کہ یہ پوری سچائی نہیں۔ مضمون نگار نے نام بنام تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ یہی واقعہ خود پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ اس کے اپنے دائرہ میں بھی کئی جگہ امیدواروں کی کثرت کی بنا پر اس کے ووٹ بٹ گئے اور وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے مقابلہ میں ہار گئی۔ مضمون نگار نے لکھا تھا کہ اس نے باقاعدہ تفصیلات جمع کیں تو حیرت انگیز طور پر ان نشستوں کی تعداد بھی ۴۳ ہی تھی جو پیپلز پارٹی نے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر کھو دیں۔ یعنی اپنے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر اسلامی جمہوری اتحاد نے بھی ۴۳ نشستیں کھو ئیں۔ اور اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر ۳۳ نشستیں کھو دیں۔ اختلافی معاملات میں لوگ اکثر ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنے موافق آدھی بات کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے مخالف آدھی بات کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ طریقہ نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کریں وہ ہمیشہ حقیقت کی دریافت میں ناکام رہتے ہیں۔ ۵ اکتوبر کی صبح کو گلشن اقبال میں ایک نشست ہوئی۔ اس میں کراچی کے کچھ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے ۔ ابتدائی میں نے دعوت اسلامی کے جدید امکانات پر گفتگو کی۔ نیز بتایا کہ ان دعوتی امکانات کو استعمال کرنے کے لئے" صبر کی صفت درکار ہے۔ یعنی ناخوشگوار باتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنی ساری توجہ دعوت کے عمل پر لگانا۔ گفتگو کے آخر میں سوال و جواب ہوا۔ یہ نشست تقریباً ۳ گھنٹہ جاری رہی۔ مہاجر تحریک کے قائد الطاف حسین صاحب یہاں کی مشہور شخصیت ہیں۔ ان سے میری ملاقات نہ ہوسکی۔ میں نے سنا تھا کہ ان کے جلسہ میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں آتے ہیں۔ اس لئے میں ان کو سننا چاہتا تھا۔ چنانچہ وی سی آر پر ان کا ایک پروگرام دیکھا۔ وہ نومبر ۱۹۸۹ میں لاہور گئے تھے۔ یہ ویڈیو کیسٹ اسی سفر سے تعلق رکھتا تھا۔ الطاف حسین صاحب نہایت پر جوش انداز میں بولتے ہیں۔ وہ جب بولتے ہیں تو زبان کے ساتھ ان کا پور جسم بھی مسلسل حرکت میں رہتا ہے " مہاجر پاکستان میں مہاجر بن کر رہنے کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ پاکستانی بن کر رہنے آیا تھا۔ مگر جب ہم نوکری کے لئے گئے تو ہم سے پوچھا گیا کہ تمہارا باپ کہاں پیدا ہوا تھا، تمہارا دادا کہاں پیدا ہوا تھا، اس امتیاز نے ہم کو مہاجر بنا دیا۔ " ہم اپنے وطن میں بے وطنی کا طعنہ سنتے ہیں، ہم اپنا حق مانگتے ہیں تو ہم کو کلاشینکوفوں سے بھون دیا جاتا ہے۔ " ہمارے خلاف بالقصد فسادات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page