ایک سفر
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
کرائے جاتے ہیں تاکہ مہاجر اور غیر مہاجر کے درمیان جھگڑا ہو۔ یہ فسادات ایک منظم سازش کے تحت ہورہے ہیں"۔ مہاجرین کی بستی علی گڑھ پر حملہ کیا گیا اور چھ گھنٹہ تک ہم گولیوں سے بھونے جاتے رہے۔ مگر کوئی ہمارے لئے بولنے والا نہیں۔ اس چیز نے مہاجر تحریک پیدا کی۔" الطاف حسین صاحب کی تقریر کے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ کیا چیز ہے جس نے انہیں لیڈر بنایا ہے۔ یہ دراصل مہاجرین کا احساسِ مظلومی ہے۔ وہ مظلوم مہاجرین کے احساسات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی چیز ہے جس نے ان کو مہاجرین کا لیڈر بنا دیا ہے۔ ٹھیک یہی صورت حال ہندوستان میں بھی ہے۔ جو شخص مسلمانوں کے احساسِ مظلومی کی ترجمانی کرتا ہے وہ ان کے درمیان فوراً مقبول ہو جاتا ہے۔ مگر سچا لیڈر وہ ہے جو لوگوں کے احساسِ یافت کو جگا کر ان کا قائد بنے۔ سفر کے دوران میں نے ایک پائلٹ سے پوچھا کہ ہوائی جہاز کیسے اڑتا ہے۔ اس نے کہا کہ ہوائی جہاز کو ہم نہیں اڑاتے۔ یہ دراصل نیچر کا قانون ہے جو ہوائی جہاز کو اڑاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ ہوائی جہاز کی مخصوص وضع ، اس کا پنکھا، انجن کے ذریعہ تیزی سے پیچھے کی طرف ہوا نکالنا، اور رن وے پر اس کو تیزی سے دوڑانا ، اس قسم کی کچھ چیزیں جب آپ ایک مشین میں جمع کریں تو وہ اپنے آپ اوپر اٹھنے لگتی ہے۔ یہ نیچر کا قانون ہے، اور اسی قانون کو استعمال کر کے ہم ہوائی جہاز کو اڑاتے ہیں۔ امکانات فطرت کو استعمال کرنے ہی کا دوسرا نام ٹیکنالوجی ہے۔ پانی کو سوڈگری تک حرارت پہنچائیں تو اس کے مాలే کیوں ٹوٹنے لگتے ہیں جس کا دوسرا نام ابلنا ہے۔ مقناطیسی فیلڈ اور موشن کو یکجا کریں تو الیکٹران دوڑنے لگتے ہیں جس سے بجلی تیار ہوتی ہے۔ اسی طرح مقناطیسی فیلڈ اور کرنٹ کو یکجا کریں تو موشن پیدا ہو جاتا ہے جس سے تمام مشینیں چلتی ہیں۔ اسی طرح کچھ خاص چیزوں کو یکجا کریں تو مشین اوپر اٹھنے لگتی ہے جس سے ہوابازی کی صنعت وجود میں آئی ہے۔ اس دنیا میں امکاناتِ فطرت کو استعمال کرنے ہی کا نام کامیابی ہے۔ اسی سے تمام ٹیکنالوجی ظہور میں آئی ہے۔ اسی طرح انسانی دنیا میں بھی کوئی حقیقی کامیابی اس وقت ملتی ہے جب کہ زندگی کے امکانات کو سمجھا جائے اور اس کو حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا ماحول تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ طلبہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader