ایک سفر
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
(discovery method) پسند ہے۔ یہی طریقہ اس نے دین میں بھی رکھا ہے۔ دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے اتنا واضح ہے کہ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے (اليھاك نھارھا) مگر اللہ نے دین پر التباس (الانعام (۹) کا پردہ ڈال دیا ہے۔ یہ ایک تہدیر ہے جس کا مقصد انسان کے ذہن کو متحرک کرنا ہے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ آدمی اپنی فکری قوتوں کو عمل میں لاکر اس پردہ کو پھاڑے اور دین کو ذاتی معرفت کی سطح پر دریافت کرے۔ پچھلی رات میں دہلی میں سو نہیں سکتا تھا۔ جہاز میں داخل ہوا تو نیند اور تکان کا سخت غلبہ تھا۔ چنانچہ جلد ہی نیند آگئی۔ میں لیٹ گیا اور گہری نیند سو تارھا۔ دہلی سے روم کی پرواز مسلسل ۹ گھنٹے کی ہے مگر اس کا بڑا حصہ سونے میں گزر گیا۔ اور ایک تھکا دینے والا سفر با آسانی طے ہو گیا۔ جسم اسی طرح خود کار نظام کے تحت کھوئے ہوئے کی تلافی کرتا ہے تلافی (compensation) فطرت کا ایک مستقل اصول ہے۔ مثلا کسی آدمی کے جسم سے اس کا ایک گردہ نکال دیا جائے تو دوسرا گردہ اپنے آپ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ تنہا پورے جسم کی ضرورت کو پوری کرسکے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کا پسندیدہ طریقہ کیا ہے ۔ وہ تلافی مافات کا طریقہ ہے ۔ اس کے مطابق اگر کوئی قوم دوسری قوموں سے پچھڑ جائے تو اس کے لئے نظری طریقہ یہ ہوگا کہ وہ سب سے پہلے اپنی کمی کی تلافی کرے۔ کمی کی تلافی کے بغیر اقدام کرنا فطرت کے مقررہ طریقہ کے خلاف ہے۔ اور جو لوگ فطرت کے طریقہ کے خلاف عمل کریں ان کا نا کام ہو جانا یقینی ہے۔ ۹ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز اتھنہ کی صبح کو روم میں اتر گیا ۔ لینڈنگ نہایت ہموار تھی۔ جس کانفرنس میں مجھے شرکت کرنا ہے وہ اگر چہ اٹامیں ہے مگر اس کے نمائندہ ڈاکٹر پالوبی (Dr Leonardo Polombi) دو آدمیوں کے ساتھ روم ائیر پورٹ پر ہماری رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ یہ کانفرنس ویٹیکن کے ماتحت ایک اطالوی ادارہ (CXomunity of S. Egidio) کی طرف سے کی جارہی ہے۔ ہمارے اخبارات و رسائل میں ویٹیکن اور دوسرے مسیحی اداروں کے بارے میں صرف یہ چھپتا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ مگر ریلین کار کے اعتبار سے ان کے یہاں جو اعلی نمونہ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader