Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 299

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے مسلمانوں کو باخبر نہیں کیا جاتا۔ یہ لوگ جس غیر معمولی نظم اور باقاعدگی اور منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں اس سے اب تک کوئی سبق نہیں لیا گیا۔ حالاں کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دشمن کے اندر بھی اگر کوئی، ہنر ہے تو اس کو اس سے سیکھنے کی کوشش کرو۔ 4 اکتوبر 1991 کو فجر کی نماز میں نے نظام الدین (دہلی) کی قریش مسجد میں پڑھی تھی۔ ۷ اکتوبر کو فجر کی نماز روم ایر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں پڑھی۔ مسجد کے مقدس ماحول میں نماز پڑھنے کے بے شمار فائدے ہیں۔ مگر ایک غیر مسجد میں یا ایک نئے مقام پر نماز پڑھنا ایک ایسا انوکھا تجربہ ہے جس کو لفظوں میں بیان کرنا بے حد مشکل ہے۔ یہ وہ خصوصی لمحہ ہے جب کہ بندہ اس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ میں ایک ابابے مقام پر جھک کر سجدہ اعتراف کہہ رہا ہوں جہاں مجھ سے پہلے شاید کسی انسان نے سجدہ اعتراف پیش نہیں کیا۔ یہ ایک ایسا احساس عبدیت ہے جس کا تجربہ عام حالات میں نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری پنل منرا روم تھی ۔ روم میں اگلا جہاز کافی دیر کے بعد تھا۔ اس طرح ہم کو یہاں چھ گھنٹے سے زیادہ مل رہے تھے۔ ایئر پورٹ پر کانفرنس کے جو منتظمین ہم سے ملنے کے لئے آئے تھے، ان سے ہم نے کہا کہ روم میں ہم خاص طور پر دو چیزیں دیکھنا چاہتے ہیں، ایک ویٹیکن اور دوسرے یہاں کا اسلامی مرکز اور مسجد۔ وہ بخشش اس پر راضی ہو گئے۔ ہمارے پاس اٹلی کا وریز انہیں تھا۔ عام حالات میں اب ویزا حاصل کرنا ہمارے لئے تقریباً ناممکن تھا۔ مگر انہوں نے نور آکارروائی کر کے ہمارا ویزا حاصل کیا۔ اس کے بعد دن ہم کو لیکر شہر کی طرف نکلے۔ ویٹیکن سے تعلق رکھنے والوں کو یہاں خصوصی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ روم کے مختلف علاقوں سے گزر ارتے ہوئے وہ ہم کو ویٹیکن میں لے گئے۔ اس طرح ہم نے روم کو بھی کم از کم ایک حد تک دیکھ لیا۔ ویٹیکن کو اندر اور باہر سے پوری طرح دیکھا یہ ایک مربع کلو میٹر سے بھی کم رقبہ میں واقع ہے۔ پوپ کی رہائش گاہ بھی یہیں ہے۔ سینٹ پیٹر (پیٹرس) کا مقبرہ اس کا سب سے زیادہ مقدس حصہ ہے۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ سینٹ پیٹر کا بڑا مجسمہ ہے۔ لوگ اس کے پاؤں کو احترام کے ساتھ چھوتے ہیں اور اس کو چوم رہے ہیں ۔ ویٹیکن ساری دنیا کے مسیحیوں کا مذہبی مرکز ہے۔ وہ ہر طرف مجسموں سے بھرا ہوا ہے۔ مسیح اور مریم اور فرشتوں کے مجسموں سے لے کر بعد کے مسیحی اکابر اور مختلف زمانوں کے پوپ کے مجھ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page