ایک سفر
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
مقصد میں ناکام کیوں ہوگئیں۔ ایک صاحب ان رکاوٹوں کی فہرست بتانے لگے جنہوں نے ان اسلامی تحریکوں کو ناکام کر دیا۔ میں نے کہا کہ یہ سوچ صحیح نہیں۔ اس دنیا میں تو لازماً یہی ہونا ہے کہ یہاں رکاوٹیں پیش آئیں ۔ ہمیں رکاوٹوں کے باوجود اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ ایک مستشرق کے الفاظ میں ، آپ نے رکاوٹوں کو اپنے لئے نہ بینہ بنالیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں صرف اس لئے ناکام ہو گئیں کہ وہ رکاوٹوں یاڈس ایڈوانٹج کو اپنے لئے ایڈوانٹج نہ بنا کیں ( هذه الحركات الاسلاميه كلها فشلت بسبب واحد - انها لم تستطع ان تستغل الموانع لهم كفرص) ایک عرب نوجوان مختار احمد (۲۶ سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس سے پہلے سیاسی اسلامی جماعتوں سے متاثر تھے۔ ان کے دماغ میں مار دھاڑ والا اسلام بسا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد آپ کی عربی کتابیں پڑھنے کو ملیں۔ ان کو پڑھنے کے بعد میرا ذہن بالکل بدل گیا۔ ان کو پڑھ کر میرے دماغ کا بوجھ اتر گیا۔ اب میں اپنے ماضی اور حال کو سوچتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ میں قید خانے سے باہر آگیا ہوں (کانی خرجت من السجن) عرب ممالک میں بہت بڑا دعوتی موقع پیٹرول ڈالر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ آجکل کثرت سے بیرونی ملکوں کے غیر مسلم ماہرین اور کارکن عرب ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان آسانی کے ساتھ دعوتی کام کیا جا سکتا ہے۔ ایسے کئی عرب نوجوان ملے جو اس دعوتی امکان سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ محمد المہانی (۳۰ سال ) نے بتایا کہ وہ جس کمپنی میں کام کرتے ہیں ، اس میں ایک برطانی ایکسپرٹ ہے جس کا نام برائن کو پنگ (Brain Copping) ہے۔ محمد المہانی نے اس برطانی مسیحی کو گارڈ ارائنز راؤنر دوسری کتابیں پڑھنے کے لئے دیں۔ اس کے بعد اس کا تاثر پوچھا۔ سوال سن کر وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ اس کے بعد بولا : جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ بالکل حق ہے۔ اس نے مزید کہا کہ مجھے برطانیہ کا کوئی شخص نہیں معلوم جو اتنی طاقت کے ساتھ خدا اور مذہب کے اثبات پر کتاب لکھ سکے۔ طارق الکمر دی (۲۷ سال) ایک عرب نوجوان ہیں۔ وہ الجزائریا میں تھے ۔ وہاں انہوں نے آئرلینڈ کی ایک عیسائی لڑکی سے شادی کر لی۔ اس کا نام گرالدین (Geraldine Sheehen) ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader