ایک سفر
Urdu book, p. 305
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کو پڑھ کر میں اپنی زندگی میں پہلی بار روئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو اسی طرح پیش کرنا چاہئے: انّ هذا الاسلوب اسلوب عصری يخاطب العقلية الاوروبية وينفذ الى اعماق القلب انی تاثرت جدا بهذه المقالات وبكيت لاول مرة - هكذا يجب أن يقدم الاسلام ملاقاتوں کے بعد اکثر ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی مرکز کا پیغام ایسے ایسے مقامات پر پہنچ رہا ہے جن کی بابت ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ مثلاً سفر کے دوران ڈنمارک کے ایک صاحب لملے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے آپ کا انگریزی رسالہ اور انگریزی کتابیں پڑھی ہیں۔ وہ ہمارے سنٹر کی لائبریری میں موجود ہیں۔ اور لوگ ان کو شوق سے پڑھتے ہیں۔ ان کا نام اور پتہ یہ ہے: Sheikh Mohammed Idris, Islamic Cultural Centre, Morsebakken 2, Copenhagen 2400 NV (Tel. 01609017) روم کے تاریخی مقامات کو دیکھنے کے بعد دوبارہ ہم روم ائیر پورٹ پر واپس آگئے۔ یہاں ائیر پورٹ لاؤنج میں سنڈے ٹیلی گراف (۲۷ اکتوبر ۱۹۹۱) دیکھا۔ اس کے صفحہ ۲۶ پر ایک کالم ویٹیکنالوجی (Vaticanology) کا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اٹلی اور انگلستان کے سفیر سے ملاقات کرتے ہوئے پوپ جان پال دوم (Pope John Paul II) نے چرچ کی طرف سے تشدد اور تخویف کے تمام اعمال کی ان الفاظ میں مذمت کی: The Church continues to condemn all acts of violence and intimidation, from whatever source they originate. قدیم زمانہ میں ممکن تھا کہ تشدد کو صرف ظالم اور مفسد کے خلاف استعمال کیا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ میں ٹیکنکل ترقیوں نے اس کو نا ممکن بنا دیا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے دور میں تشدد ایک ایسا ہلاک عمل بن چکا ہے جو فاتح اور مفتوح دونوں کو برباد کر دیتا ہے۔ حتی کہ وہ خود زمین کو ناقابل رہائش بنا دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور امریکہ اپنے ہتھیاروں کو تلف کرنے کے معاہدے کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں جو مسلمان تشدد اور مسلح انقلاب کی بات کرتے ہیں وہ ایک قسم کی خلاف زمانہ حرکت (anachronism) میں مبتلا ہیں۔ وہ اسلام کو بھی وہیں پہنچا دینا چاہتے ہیں جہاں وہ خود اپنی فکری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader