ایک سفر
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
کا اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ یہ ادارہ مستحکم اور خود کفیل ہوگیا۔ اس کا موجودہ نام اورینٹل یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ، نیپلز ہے۔ یہ یورپ میں علوم مشرقی کی تعلیم کا قدیم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تمام مشرقی زبانوں کی تعلیم کا انتظام ہے۔ اردو زبان کی تعلیم کا آغاز اسی ادارہ میں انیسویں صدی میں ہوا۔ یہاں باقاعدہ طور پر اردو کا ایک شعبہ قائم کیا گیا ۔ اس وقت سے وہ باقاعدہ طور پر کام کر رہا ہے۔ اس کے طلبہ زیادہ تر وہ مسیحی نوجوان ہوتے ہیں جو مسیحیت کی تبلیغ کو بطور کیریئر اختیار کرتے ہیں اور جن کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اردو خواں دنیا میں مسیحیت کا پیغام پہنچائیں گے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران پروفیسر اجیت سنگھ اس ادارہ میں اردو کے استاد تھے ۔ 19۶0 میں ڈاکٹر اقتدا حسن یہاں اردو کے استاد مقرر ہوئے ۔ 19۸۰ میں ڈاکٹر رحیم رضا نے ان کی جگہ سنبھالی۔ اٹلی میں (دوسری عالمی زبانوں کے ساتھ ) اردو کی تعلیم کا یہ انتظام حکومت کے تعلیمی نظام کے تحت نہیں ہے بلکہ چرچ کے تعلیمی نظام کے تحت ہے ۔ اس کا مقصد مشنری عیسائیوں کو اردو داں بنانا ہے۔ تاکہ وہ اردو داں مسلمانوں کے درمیان عیسائیت کا پیغام پہنچا سکیں ۔ مسلمان فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسلام عالمی مذہب ہے اور حضرت مسیح صرف ” بنی اسرائیل کی بھیڑوں “ کے لئے بھیجے گئے تھے۔ مگر عملاً آج معاملہ بالکل برعکس ہے۔ مسیحیت عالمی تبلیغ کے وسیع ترین منصوبہ پر عمل پیرا ہے، جب کہ مسلمانوں کے یہاں شعور کے درجہ میں بھی عالمی تبلیغ کا کوئی حقیقی خاکہ موجود نہیں۔ اٹلی کی ایک خاتون ہیں۔ وہ ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ پھر انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ ایک عرب نوجوان سے نکاح کر لیا۔ ان کے عرب شوہر سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ اطالوی زبان کے علاوہ انگریزی زبان بھی بخوبی جانتی ہیں اور اب انھوں نے عربی بھی سیکھ لی ہے۔ عرب نوجوان نے بتایا کہ انھوں نے اطالوی خاتون کو انگریزی الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھنے کے لئے دئے ۔ ان کو پڑھ کر وہ کافی متاثر ہوئیں ۔ اس کے بعد انھیں اسلامی دعوت کے بارے میں بنی مسئولیت کا احساس ہوا ۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کا اسلوب عصری اسلوب ہے۔ وہ یورپی بن کو اپیل کرتا ہے اور دل کی گہرائی تک اتر جاتا ہے۔ میں ان مضامین سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader