Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 307

By Maulana Wahiduddin Khan

نکال دیا: سسلی (صقلیہ) نویں صدی میں مسلمانوں کے قبضہ میں آیا۔ اس کے بعد وہ میڈ بیٹرینین میں مسلمانوں کی توسیعی مہموں کا مرکز بن گیا۔ یہاں تک کہ نارمن نے ۱۰۹۱ میں جنیرہ کے اندر اپنا اقتدار قائم کر لیا: تار تاریخ کے ان واقعات میں بے پناہ سبق ہے۔ یہ واقعات ہمیں اپنی کمزوریوں کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخی کتابیں ان واقعات کو صحیح انداز میں پیش نہیں کرتیں۔ اس لئے ان کو پڑھ کر بھی مسلمان ان سے صحیح سبق نہیں لے پاتے۔ مثال کے طور پر ابن اثیر کی الکامل فی التاریخ کا ایک باب ہے : جزیرہ صقلیہ پر فرنگیوں کے اقتدار کا ذکر (ذکر ملك الفرنج جزيرة صقلیة) یہ باب ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: في هذه السنة استولى الفرنج اس سن (۲۸۴ھ) میں فرنگی پورے جزیرہ پر لعنهم الله على جميع جزيرة صقلیة قابض ہوگئے ، اللہ ان پر لعنت کرے اور اللہ اعادها الله الى الاسلام والمسلمين اس کو دوبارہ اسلام اور مسلمانوں کی طرف لوٹا دے۔ (۱۹۳ / ۱۰) سسلی پر فرنگیوں" کا دوبارہ قبضہ، جیسا کہ خود ابن اثیر نے تفصیل سے لکھا ہے، خود مسلمانوں کی باہمی عداوتوں اور آپس کے قتل و خون کی وجہ سے ہوا۔ مگر جب آغاز بحث میں مذکورہ جملہ لکھ دیا جائے تو اس کے بعد سرے سے نصیحت کا ذہن ختم ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ تاریخ کے مطالعہ کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس سے حال اور مستقبل کے لئے نصیحت حاصل کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page