ایک سفر
Urdu book, p. 308
By Maulana Wahiduddin Khan
مؤرخانہ انداز میں لکھنا چاہئے نہ کہ مقتدانہ انداز میں۔ میڈیٹرینین میں پیش قدمی کے زمانہ میں مسلم مسلمانوں کے لئے رسد گاہ کا کام کرتا تھا۔ قدیم زمانہ میں مسلمانوں نے اس کو کافی ترقی بھی دی تھی۔ سسلی پر عرب تہذیب کی اتنی گہری چھاپ تھی کہ عربوں کے یہاں سے چلے جانے کے بعد بھی سسلی کے امرا اور سلاطین عرب طرز پر رہتے تھے اور عربوں جیسا لباس پہنتے تھے ، جس طرح موجودہ زمانہ میں برٹش راج سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود قدیم برطانوی ممالک برطانوی لباس اور برطانوی زبان کو فخر کے ساتھ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ علامہ اقبال نے سسلی کی بابت کہا تھا : رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوں نابہ بار وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار مگر سسلی کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں مواصلاتی ذرائع کی ترقی نے ہمارے لئے دعوت کے مواقع کتنے زیادہ بڑھا دیئے ہیں۔ ہمارے اسلاف نے "تہذیب حجازی" کو سسلی تک پہنچانے کے لئے برسوں کا دشوار گزار سفر طے کیا تھا۔ آج ہم صرف گھنٹوں کے اندر آسان سفر طے کر کے سسلی پہنچ سکتے ہیں اور وہاں کے باشندوں کو دوبارہ "تہذیب حجازی" کی تسخیری قوت سے مسخر کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے دعوتی شعور کی ضرورت ہے، اور دعوتی شعور موجودہ مسلمانوں میں سرے سے موجود نہیں۔ جزیرہ سقلیہ (سسلی) اور جنوبی اٹلی میں ایک عرصہ تک مسلمانوں کا غلبہ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں تاریخ کی کتابوں میں کافی مواد موجود ہے۔ اس موضوع پر ۲۸۰ صفحات کی ایک عربی کتاب یہ ہے: احمد توفيق المدني ، المسلمون في جزيرة صقلية وجنوب إيطاليا ، مكتبة الاستقامة ، تونس ، ١٩٥٤ ، اس کتاب کے صفحہ ۱۶ پر "فتح مالطہ" کا عنوان ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ رومیوں نے ۵۳۳ ء میں مالٹا پر قبضہ کر لیا تھا۔ ۷۰۷ء میں سقلیہ کے مسلم حکمرانوں نے اس کو اپنے زیر اقتدار لے لیا۔ جزیرہ پر ان کا یہ اقتدار ۱۰۹۰ء تک باقی رہا۔ اس طرح ۲۲۰ سال تک یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم رہی۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مالٹا کے لوگ محرف عربی بولتے ہیں۔ روم سے مالٹا تک کا پورا سفر میڈیٹرینین کے اوپر سے ہوا۔ سمندر بھی اسی طرح نیلگوں نظر آ رہا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader