Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 313

By Maulana Wahiduddin Khan

شیخ کے سرد پانی سے وضو کرنے کی تکلیف آپ سے دیکھی نہ گئی۔ تو آپ نے گرم پانی مہیا کرنے کا انتظام اور التزام اس طرح کیا کہ ساری رات ٹھنڈے پانی کا لوٹا سینے سے لگائے لحاف اوڑھے بیٹھے رہتے اور جسم کی حرارت سے گرم شدہ پانی کا لوٹا فجر کے وضو کے لئے حضرت شیخ کی خدمت میں پیش کر دیتے ۔ یہ سلسلہ ایک یا دو دن نہیں پورے تین سال ۵ مہینے تک چلا۔ (الجمعیتہ وبیلی ۹ - ۱۵ اگست ۱۹۹۱) اس واقعہ کو ماننے کے لئے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پورے تین سال ۵ مہینے تک ملتان میں متواتر شدت کی سردی پڑتی رہی۔ عام قاعدہ کے خلاف وہاں موسم تبدیل نہیں ہوا۔ اس سے قطع نظر، خود یہ بات بڑی عجیب ہے کہ مولانا کا ایک شاگرد دان کے پاس ساری رات بیٹھے رہنے کی مصیبت اٹھا رہا ہے مگر مولا نا اس کو منع نہیں فرماتے۔ اگر مولانا نہ جانتے ہوئے منع نہیں کیا تو یہ ان کی شرافت کے خلاف ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ مولانا کو اس کا علم نہ ہو سکا تو یہ اور بھی زیادہ عجیب ہے۔ کیوں کہ جو شخص خود اپنے گھر کے ایک واقعہ سے ساڑھے تین سال تک بے خبر رہے، وہ ان عالمی حالات سے کیوں کر باخبر ہو سکتا ہے جن کو جاننا برٹش امپائر کے خلاف تحریک چلانے کے لئے ضروری تھا۔ ایک صورت میں مولانا کی شرافت مشتبہ ہوتی ہے اور دوسری صورت میں مولانا کی فراست ۔ اب یہ مولانا کے معتقدین کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ دونوں میں سے کس صورت کو ترجیح دیتے ہیں۔ سفر سے پہلے میں نے ایک کتاب حاصل کی۔ اس کا نام " اسیرانِ مالٹا " ہے۔ میرا خیال تھا کہ اس میں مالٹا کے مذکورہ اسیروں کے بارہ میں تاریخی معلومات ہوں گی اور وہ مالٹا میں میرے کام آئیں گی۔ مگر کتاب کو پڑھنے کے بعد حیرت انگیز طور پر میں نے پایا کہ اس میں دوسری دوسری باتیں تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ مگر اسیرانِ مالٹا کے بارہ میں کچھ نہیں۔ اگرچہ دوسری باتیں بھی اس میں زیادہ تر غیر تاریخی انداز میں ہیں۔ مگر اسیرانِ مالٹا کے بارہ میں جزئی تذکرہ کے سوا کوئی بھی تاریخی یا غیر تاریخی معلومات اس کتاب میں مشکل سے ملے گی ۔ اردو کتابوں کا عام طور پر یہی حال ہے۔ اردو زبان کا ارتقا، اس زمانہ میں ہوا جب کہ مسلم اہلِ قلم اور مسلم اہل زبان سب کے سب زوال کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان میں مشکل سے کوئی ایسی کتاب ملے گی جو حقیقی معنوں میں سائنٹفک انداز میں لکھی گئی ہو۔ جو لوگ صرف اردو کتابیں پڑھیں وہ علم سے اسی طرح بے بہرہ رہتے ہیں جس طرح دیوان غالب کو پڑھنے والا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page