ایک سفر
Urdu book, p. 312
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہبی جبر کے اس دور کو اسلام نے ختم کیا۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ عطیہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر عطی کا اعتراف کرنے والا کوئی نہیں۔ حتیٰ کہ خود مسلمانوں میں بہت سے لوگ اس خدائی واقعہ کو اپنے قومی فخر کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ صحیح یہ تھا کہ اس کو وہ شکر خداوندی کے خانہ میں ڈالیں۔ عرب تہذیب کا اثر مالٹا پر اتنا گہرا پڑا کہ آج بھی وہ مالطی زبان کی صورت میں موجود ہے۔ مالطی زبان حقیقتاً عربی کی بگڑی ہوئی صورت ہے جس میں انگریزی اور اطالوی زبانوں کے کچھ الفاظ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ موجودہ مالطی زبان انگریزی حروف میں لکھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مالطی زبان کا ایک اخبار (Nazzjon) ہے۔ اس کے شمارہ ۲۸ اکتوبر کی پہلی سرخی مذکورہ کانفرنس کے بارہ میں تھی۔ اس کے الفاظ اس طرح تھے : Il-lum tibda Il-Hames Laqgha Internazzjonali (اليوم تبد أ الخميس لقاء انٹرنیشنل) یعنی آج ۵ بجے انٹرنیشنل اجتماع شروع ہوگا۔ ہندوستان کے علمائے نے ، ۱۸۵۷ میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کی تحریک شروع کی تھی جو اپنے آخری مرحلہ میں ریشمی رومال کی تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس سلسلہ میں دسمبر ۱۹۱۶ میں مولانا محمود حسن صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ انھیں ساڑھے تین سال تک مالٹا میں نظر بند رکھا گیا۔ جون ۱۹۲۰ میں وہ رہا کئے گئے ۔ اس نظر بندی کے زمانہ میں مولانا موصوف کے شاگرد خاص مولانا حسین احمد مدنی بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس سلسلہ میں جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے : "حضرت شیخ الہند کے زمانہ نظر بندی میں جو لوگ ساتھ رہے ان میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آپ نے حضرت شیخ کی خدمت کرنے اور زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے میں دن رات ایک کر دیا۔ ایک ادنی سا واقعہ ہے۔ مالٹا میں شدت کی سردی میں حضرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader