Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 315

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے اور اپنے کسی طالب علم کو کم از کم ایک مہینہ کے لئے یہاں بھیجے اور وہ تمام ممکن مقامات پر جا جا کر مکمل تحقیق کرے تو امید ہے کہ کچھ ریکارڈ حاصل ہو جائے۔ اس تلاش و تحقیق سے واپس آتے ہوئے ایک دکان پر نظر پڑی۔ اس کے بورڈ پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا : لے جائیے (Take away) آدمی اگر انہیں دو لفظوں کو سب کچھ سمجھ لے تو وہ گمان کرے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دکان میں داخل ہو اور جو چاہے وہاں سے بلا قیمت اٹھا لے جاؤ۔ مگر ان الفاظ کا یہ مطلب نہیں۔ ان لکھے ہوئے لفظوں میں کچھ اور الفاظ اپنی طرف سے ملانے پڑیں گے اس کے بعد ہی ان کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے۔ مزید الفاظ کو ملانے کے بعد پوری بات یوں ہے : قیمت ادا کرو اور لے جاؤ۔ یہ الفاظ عام طور پر ان دکانوں پر ہوتے ہیں جہاں کھانے کا تیار سامان فروخت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہوٹل نہیں ہے جہاں آپ بیٹھ کر کھائیں۔ البتہ یہاں سے کھانے کی چیزیں خرید کر اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں۔ ہر لفظ یا ہر عبارت اس وقت تک نامکمل ہے جب تک آپ اس میں اپنے حصہ کے ضروری الفاظ شامل نہ کریں۔ مالٹا میں ہماری معلومات کے مطابق، اس وقت دو مسجدیں ہیں۔ ایک قدیم مسجد ہے۔ یہ مسجد ترکوں کی بنائی ہوئی ہے۔ قدیم طرز کی کافی بڑی مسجد ہے۔ اس کو ہم صرف باہر سے دیکھ سکے۔ کیوں کہ وہ چاروں طرف سے بند تھی۔ غالباً وہ محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیر انتظام ہے۔ دوسری مسجد نئی ہے۔ یہ لیبیا کے تحت تعمیر شدہ اسلامک سنٹر کی مسجد ہے۔ اس سنٹر میں بظاہر کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آئی۔ البتہ تعمیر کے اعتبار سے وہ کافی بڑا ہے۔ اور اس میں ایک نہایت خوبصورت مسجد ہے۔ اس مسجد میں ہم نے ظہر کی نماز پڑھی۔ مسجد کے بیرونی دروازہ پر ایک عربی کتبہ لگا ہوا ہے اس پر یہ عربی الفاظ درج ہیں : بسم الله وعلى بركة الله : وضع الاخ العقيد معمر القذافي حجر الاساس للمركز الاسلامى بجمهورية مالطا الصديقة بتاريخ ۲ رجب ۱۳۹۸ھ ۲ يويو ۱۹۷۸م مالٹاسیاحوں کا شہر ہے۔ یہاں ہر روز کثرت سے ساری دنیا کے سیاح آتے رہتے ہیں۔ جس وقت ہم مذکورہ مرکز میں تھے، اس وقت بھی کچھ سیاح " اسلامک سنٹر" کو دیکھنے کے لئے آئے ۔ اگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page