ایک سفر
Urdu book, p. 316
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مرکز کو حقیقی معنوں میں دعوتی مرکز کے طور پر چلایا جائے تو اس کے ذریعہ سے عظیم الشان فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ مالٹا کے لیبی سنٹر میں چند افراد بطور کارکن ہیں۔ یہی اس سنٹر کی دنیا ہے۔ یہ لوگ مقامی سوسائٹی سے بالکل کٹے ہوئے ہیں۔ ہمارے سامنے دو سیاح (ایک مرد، ایک عورت) سنٹر میں آئے۔ مگر ہاں ان لوگوں کو دینے کے لئے کوئی اسلامی لٹریچر موجود نہ تھا۔ چنانچہ انھیں گیٹ ہی سے رخصت کر دیا گیا۔ سنٹر کے مدیر نے شکایت کی کہ ہم کو مالٹا کی موجودہ کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ ہم ابھی سنٹر میں تھے کہ ظہر کا وقت ہو گیا۔ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر اذان دی گئی ۔ فلسطین کے ایک سفید ریش بزرگ اپنے کمرہ سے نکلے معلوم ہوا کہ وہ یہاں کے امام ہیں۔ امام سمیت سنٹر کے غالباً تین افراد جماعت میں شریک ہوئے۔ سنٹر کے یہی چند افراد اس مسجد کے نمازی ہیں۔ سنٹر کے مدیر نے گفتگو کے دوران ہنستے ہوئے کہا : نحن نؤذن فى مالطا ( ہم مالٹا میں اذان دے رہے ہیں) عربوں میں یہ مثل مشہور ہے کہ فلان يؤذن فى مالطا يا فلان كمن يؤذن فى مالطا۔ اس مثل کا پس منظر یہ ہے کہ صلیبی جنگوں سے پہلے مالٹا میں مسلمان بڑی تعداد میں تھے۔ مگر صلیبی جنگوں کے دوران جب صلیبیوں نے مالٹا کو اپنا فوجی مرکز بنانا چاہا تو مسلمانوں کو یہاں سے ایک ایک کرکے نکال دیا۔ اس کے بعد مالٹا میں ایک بھی مسلمان باقی نہیں رہا۔ اس کے بعد یہ مثل بنی کہ فلاں شخص تو مالٹا میں اذان دے رہا ہے ۔ یعنی ایسی جگہ لوگوں کو پکار رہا ہے جہاں کوئی اس کی پکار کا جواب دینے والا نہیں ۔ ماضی اور حال کا یہ فرق بے حد عجیب ہے۔ عقبہ بن نافع تابعی (۶۸۳ - ۶۲۱ ) افریقہ کو فتح کرتے ہوئے اپنی آخره عمر میں افریقہ کے ساحل تک پہنچ گئے جہاں اٹلانٹک کا وسیع سمندر ان کے سامنے موجیں مار رہا تھا۔ انھوں نے سمندر کے ساحل پر کھڑے ہو کر کہا : يارب لولا هذا البحر المضيت في البلاد اے میرے رب، اگر یہ سمندر حائل نہ ہوتا تو میں چل کر ملکوں میں پہنچ جاتا یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ یہ دور اول کے مسلمانوں کے جذبات تھے ۔ وہ غیر عبادت گزار کو عبادت گزار بنانے کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader