Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو کتنے ہی طاقت ور دلائل سے ثابت کر دیا گیا ہو۔ ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء کو طرابلس سے پی آئی اے کی فلائٹ ۴۱۷ کے ذریعے روانگی ہوئی۔ راستہ میں جہاز ایک بار نیچے اوپر ہونے لگا۔ ہوائی جہاز کے ساتھ جب یہ صورت پیش آتی ہے تو اکثر وہ دو ہزار فٹ تک نیچے چلا جاتا ہے۔ مگر بلندی پر اڑتے ہوئے مسافر کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ۱۰۔۲۰ فٹ نیچے اوپر ہو رہا ہے۔ ہوائی جہاز جب ۳۰ ہزار فٹ کی اونچائی پر پہنچ جاتا ہے تو وہ اسی طرح ہلکا ہو جاتا ہے جیسے کوئی آدمی پانی پر تیرتے ہوئے اپنے آپ کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔ اس ہلکے پن کی وجہ سے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ جہاز دو ہزار فٹ کے بقدر نیچے اوپر ہو رہا ہے۔ جہاز جب اس طرح ہلتا ہے اور جھٹکے کے ساتھ نیچے اوپر ہوتا ہے تو عام مسافر اس کو دیکھ کر گھبرا اٹھتے ہیں۔ مگر یہ کوئی خطرہ کی بات نہیں۔ کم از کم ہوا بازی کی تاریخ میں اب تک صرف اس کی وجہ سے کوئی جہاز حادثہ کا شکار نہیں ہوا۔ واپسی کے سفر میں ہماری پہلی منزل دمشق تھی۔ جہاز دمشق کے ہوائی اڈہ پر اترا تو اس "قدیم ترین شہر" کی نسبت سے بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں۔ "دمشق" کے نام کے ساتھ اتنی زیادہ یادیں وابستہ ہیں کہ ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ مکہ اور مدینہ کے بعد اصحاب رسول کی سب سے زیادہ تعداد جہاں مدفون ہے وہ شام، خاص طور پر دمشق ہے۔ اس کے علاوہ علما ء اسلام اور مختلف قسم کی اسلامی شخصیتوں کی بہت بڑی تعداد یہاں مدفون ہے۔ دمشق نے اپنی تاریخ کے طویل دور میں، بڑے عجیب عجیب منظر دیکھے ہیں۔ قدیم عہد کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو حضرت حسین کا سر کاٹ کر اسی دمشق میں یزید کے پاس لایا گیا۔ فتح اسپین (۷۱۱ء) کے چار سال بعد موسیٰ بن نصیر دمشق واپس آئے تو ان کے ساتھ تقریباً ۴۰۰کم کی تعداد میں اسپینی شہزادے تھے جن کے سروں پر تاج تھے اور کمر میں سونے کے پٹکے بندھے ہوئے تھے۔ دمشق اُس قدیم تقریباً پانچ سو سالہ مسلم عہد کی یاد دلاتا ہے جب کہ دمشق سے لے کر فرانس کی سرحد تک عثمانی ترکوں کی حکومت قائم تھی، وغیرہ وغیرہ۔ جدید فلسطینی تحریک کے ایک لیڈر خلیل الوزیر تھے۔ ان کو عام طور پر ابو جہاد کہا جاتا تھا ۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page