ایک سفر
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
فلسطین میں پیدا ہوئے۔ آخری دنوں میں وہ پی ایل او کے فوجی کمانڈر کی حیثیت سے تیونس میں مقیم تھے۔ ان کی تدفین دمشق میں ہوئی۔ ابو جہاد اپنی خطر ناک سرگرمیوں کی وجہ سے اسرائیل کے لئے درد سر بنے ہوئے تھے۔ وہ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی گوریلا جنگ کے کمانڈر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مارچ ۱۹۸۸ میں انھیں کے منصوبہ کے مطابق ایک اسرائیلی سڑک سے ایک بس کا اغوا کیا گیا تھا اور اس کے ۳۵ یہودی مسافر قتل کر دئے گئے تھے۔ اس طرح کے مختلف واقعات کی بنا پر اسرائیل کے حکمران ابو جہاد سے بگڑے ہوئے تھے۔ آخر کار ایک نہایت منظم منصوبہ کے تحت ۱۶ اپریل ۱۹۸۸ کو انھیں قتل کر دیا گیا۔ اس خفیہ منصوبہ کی تفصیل امریکی ہفتہ وار ٹائم ۲۵ اپریل ۱۹۸۸ اور ۲ مئی ۱۹۸۸ میں شائع ہوئی ہے۔ ٹائم (۲ مئی ۱۹۸۸) کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کے ایک ممبر یوسی سریند (Yoshi Sarid) نے کہا کہ ایک کے بعد ایک ابو جہاد ختم کئے جاسکتے ہیں مگر یہ چیز فلسطینی مسئلہ کو ختم نہیں کر سکتی: Abu after Abu can be liquidated. But this will not liquidate the Palestinian problem (p.17). ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے جون ۱۹۸۸ کے پہلے ہفتہ میں شام کا دورہ کیا تھا۔ دمشق میں انھوں نے ۴ جون ۱۹۸۸ کو ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے دمشق کی خصوصیت بتاتے ہوئے کہا کہ محمد بن قاسم یہیں سے روانہ ہو کر ہندوستان پہنچے تاکہ وہاں اسلام کے پیغام کو پھیلائیں: Mohammad bin Qasim set sail from here to India to spread the message of Islam. راجیو گاندھی کے اس بیان پر ہندوستان کے کچھ فرقہ پرستوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا دہلی کے انگریزی ہفتہ روزه آرگنائز ر ( ۱۹ جون ۱۹۸۸) نے لکھا تھا کہ راجیو گاندھی اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ایسا کہ رہے ہیں۔ ورنہ محمد بن قاسم ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کے لئے نہیں آیا۔ وہ قتل اور لوٹ اور زنا کاری کے لئے یہاں آیا تھا (صفحہ ۱۶)۔ یہی بات ہندو مہا سبھا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader