ایک سفر
Urdu book, p. 319
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک مشکل مسئلہ تھا۔ کیوں کہ بہت کم وقت میں دوبارہ مجھے ایک نیا مقابلہ تیار کرنا تھا۔ ۸ اکتوبر کی شام کو اس کے بارے میں سوچتے ہوئے لیٹا اور سوگیا۔ رات کو حسبِ معمول ساڑھے تین بجے میری نیند کھل گئی۔ میں بستر سے اٹھا۔ وضو کرکے ہوٹل کے کمرہ میں دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد اپنی نئی تقریر لکھنے کے لئے منیر پر بیٹھ گیا۔ آج صبح ۱۱ بجے کی نشست میں مجھے یہ مقالہ پیش کرنا تھا۔ میں نے تیزی سے اپنے خیالات جمع کئے اور ان کو کاغذ پر لکھنا شروع کیا۔ درمیان میں صرف فجر کی نماز کے لئے ایک بار اٹھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ سورج نکلتے نکلتے میرا مقالہ تیار ہو چکا تھا۔ اس کے بعد کمرہ کے ٹیلیفون کے ذریعہ کانفرنس کے منتظمین سے ربط قائم کیا۔ انہیں بتا یا کہ میں نے اپنا مقالہ بدل دیا ہے۔ اور اب میرے ہاتھ کے لکھے ہوئے نئے مسودہ کو ٹائپ کرانا ہے انھوں نے مقالہ بدلنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ فوراً ہی انھوں نے اس کو حاصل کرکے ٹائپسٹ کے حوالے کر دیا۔ ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد ٹائپ کیا ہوا مقالہ میرے ہاتھ میں موجود تھا۔ کانفرنس میں میں نے یہی دوسرا مقالہ پیش کیا۔ قاہرہ کے مفتی شیخ طنطاوی نے عربی میں تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے، اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ـ الاصل فى العلاقات السلام، القتال لايكون الا للمقاتلين، لا يرجع المرء الى الحرب الا اذا كان مضطراً ۔ وغیرہ یہ ورڈ سلم سے بھی ایک ربی آئے تھے۔ انھوں نے یہودی مذہب کی ترجمانی کی۔ انھوں نے اپنی انگریزی تقرریں میں کہا کہ فلسطین کی مقدس سر زمین لوگوں کے دلوں میں امن کا جذبہ پیدا کرنے کا ذریعہ ہے : The Holy Land is a source of inspiration for peace. رہی کی تقریر سن کر مجھے خیال آیا کہ امتحان کی اس دنیا میں شاید الفاظ سب سے بڑا آفتہ ہیں ۔ یہاں ہر بات خوبصورت لفظوں میں ڈھل جاتی ہے ، خواہ باعتبار حقیقت وہ کتنا ہی بے اصل کیوں نہ ہو۔ ۸ اکتوبر کو شام کا کھانا صدر مالٹک کے پلیس میں تھا۔ یہ ایک بہت بڑا محل ہے جس کو غالباً انگریزوں نے بنایا تھا۔ ہم لوگ ایک بڑے ہال میں پہنچائے گئے۔ وہاں اعلیٰ تواضع کا انتظام تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader