ایک سفر
Urdu book, p. 318
By Maulana Wahiduddin Khan
دونوں کی زبان ایک نہ ہو تو کلام موجود ہو گا مگر سماعت وہاں پائی نہ جائے گی۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ سادہ طور پر صرف زبان کا معاملہ نہیں ہے بلکہ طرزِ فکر کا معاملہ بھی ہے۔ اگر متکلم کا طرزِ فکر ایک ہو اور سامع کا طرزِ فکر دوسرا ہو تو مشترک زبان کے باوجود دونوں ایک دوسرے کی بات سمجھنے سے عاجز رہیں گے۔ مثلاً ایک شخص علمی تنقید کرے گا۔ مگر سننے والا اپنے مخصوص ذہنی سانچے کی بنا پر سمجھے گا کہ وہ شخص تنقیص کر رہا ہے۔ وغیرہ مطبوعہ پر وگرام کے مطابق ، مالٹا کی کانفرنس میں مجھے تین بار عملی شرکت کا موقع ملا۔ ۸ اکتوبر کے اجتماع میں چیئرمین کی حیثیت سے۔ اس موقع پر میں نے کوئی باضابطہ تقریر نہیں کی ۔ ابتدا میں میں نے چیئرمین کی حیثیت سے افتتاحی کلمات کہے۔ اس کے بعد دوسرے حضرات نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے۔ آخر میں میرے اختتامی کلمات پر جلسہ ختم ہوا۔ ۹ اکتوبر کو صبح کی نشست خاص طور پر میری دلچسپی کی تھی۔ اس کا موضوع تھا اسلام اور عالمی چیلنج (Islam and the challenges of the world) اس موضوع پر میں نے اپنا انگریزی مقالہ پیش کیا۔ یہ مقالہ انشا اللہ انگریزی الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ ۹ اکتوبر کو آخری نشست میں لوگوں کے مقالات پر تبصرہ میرے ذمہ تھا۔ میں نے دورانِ کار ردائی اپنا دو صفحہ کا تبصرہ انگریزی میں لکھا اور اس کو آخر میں لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ میرے مذکورہ مقالہ کے سلسلہ میں ایک عجیب بات پیش آئی۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنی یادداشت کی ڈائری میں جو الفاظ لکھے تھے وہ یہاں نقل کئے جاتے ہیں : ۹ اکتوبر کو دوبارہ سیڈ بیٹریئنس کا نفرنس سینٹر میں اجتماعات ہوئے۔ مختلف لوگوں نے اپنے اپنے مقالات پیش کئے ۔ یہاں ۸۰ ملکوں کے لوگ آئے ہیں۔ اور ہر بڑے مذہب کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہر ایک اپنے اپنے خیالات پیش کر رہا ہے۔ آج میری تقریر کا موضوع تھا : اسلام اور جدید عالمی چیلنج۔ میں نے اس موقع کے لئے ایک مقالہ تیار کر کے پیشگی طور پر دہلی سے بھیج دیا تھا۔ کانفرنس کے منتظمین نے اس کی کاپیاں بھی تیار کر لی تھیں۔ مگر ملٹا آنے کے بعد تہر کا کا نفرنس سے جو باتیں ہوئیں اور لوگوں کے ذہن کا جو اندازہ ہوا، اس کے بعد میں نے چاہا کہ نئے پہلو سے میں اپنی بات یہاں پیش کروں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader