ایک سفر
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں مصر کے مفتی الشیخ طنطاوی نے تندہیری انداز میں دیر تک کچھ باتیں کیں۔ اس میں خصوصی طور پر اسلام کے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کو واضح کیا۔ پھر انہیں نے مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھائی۔ آخر میں جزیرہ والوں کے لئے ، مسلمانوں کے لئے اور اہل عالم کے لئے سلامتی اور فلاح کی دعائیں کی گئیں۔ یہ عمل تقریبًا دو گھنٹے تک جاری رہا۔ اس نشست کے دوران سوال و جواب بھی ہوا۔ شیخ طنطاوی نے اپنی کانفرنس کی تقریر میں کہا تھا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اسلام میں صرف دفاعی قتال ہے۔ اسلام میں ہجومی قتال نہیں ہے۔ جو لوگ جہاد کے نام پر غیر مسلم اقوام سے لڑائیاں چھیڑے ہوئے ہیں ان سے شیخ طنطاوی نے عدم اتفاق کا اظہار کیا۔ اس پر ایران کے عالم کو اعتراض تھا۔ انھوں نے شیخ طنطاوی سے سوالات کئے۔ شیخ طنطاوی نے نہایت عالمانہ انداز میں ہر سوال کا جواب دیا۔ ایرانی عالم نے یہ حدیث پیش کی کہ امرت ان قاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله ۔ شیخ طنطاوی نے کہا کہ اس کا تعلق قدیم مشرکین عرب سے ہے جنھوں نے پیغمبر کا انکار کیا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا۔ اب ہمارے لئے فتا تلاو في سبيل الله الذين يقاتلونكم کا حکم ہے۔ جو قومیں ہمارے خلاف عدوان نہ کریں ہم بھی ان کے خلاف جہاد نہیں چھیڑ سکتے۔ کیوں کہ قرآن میں ہے کہ فما استقامو لكم فاستقيمو الہم۔ مسلم حکومت کے تحت غیر مسلموں کے بارہ میں اسلام کا اصولی حکم انھوں نے یہ بتایا کہ لہم مالنا وعليهم ما علينا۔ مغرب کی نماز کے بعد ہمارا قافلہ دوسرے حضرات کے ساتھ ایک خاص مقام کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں کانفرنس کے شرکاء کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں مالٹا کے عوام جمع تھے۔ یہاں امن کے بارہ میں پوپ کا پیغام پڑھا گیا ۔ ہر مذہب کے پیشواؤں نے امن کی شمع جلائی اور امن کے لئے دعائیں کی گئیں۔ پورا مجمع اس دعا میں شریک رہا۔ کانفرنس کی پختم ندا سب امن کے سمندر کے لئے (Religions for a sea of peace) مقرر کی گئی تھی۔ یہاں عوام جس بڑی تعداد میں اور جو جوش وخروش کے ساتھ جمع ہوئے وہ گویا ایک "بہرامن" کا مظاہرہ تھا۔ کارروائی کے خاتمہ پر لوگوں نے آپس میں مل کر ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور مصافحہ کیا۔ اس موقع پر ان کا خاص کلمہ امن (peace) ہوتا تھا جس کو وہ اپنی زبان سے دہراتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader