ایک سفر
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں سے ہم لوگ پیدل چل کر ایک بڑے میدان میں لے جائے گئے۔ یہاں مخصوص انداز میں عمومی اجتماع کا انتظام تھا منتظمین اس کو " دعائیہ اجلاس" کہتے ہیں۔ اس دعائیہ اجلاس میں عوام اسی طرح بڑی تعداد امڈ آئے تھے جس طرح تبلیغی جماعت کے جلسوں میں دعا کے وقت بستی کے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ غالباً ۱۹۲۲ میں پنڈت جواہر لال نہرو میو (یوپی) آئے تھے۔ وہاں ان کا جلسہ تھا۔ میں بھی وہاں گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کہ میں نے کوئی بڑا جلسہ دیکھا۔ یہ بلا مبالغہ انسانوں کا جنگل تھا۔ بھیڑ کی اس کیفیت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہی احساس اکتوبر کے مذکورہ دعائیہ اجتماع میں بھی ہوا۔ تا ہم یہ صرف بھیڑ نہ تھی بلکہ نہایت منظم اور نہایت منصوبہ بند قسم کا ایک عظیم الشان اجتماع تھا۔ اس کو دیکھ کر دوبارہ مجھے احساس ہوا کہ اس منظر کو اگر میں لفظوں میں بیان کرنا چاہوں تو میں اس کو الفاظ کی صورت میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس کو یا تو براہ راست مشاہدہ کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے یا ٹی وی پر بالواسطہ مشاہدہ کے ذریعہ۔ اس طرح کے تجربات کے بعد مجھے خیال آتا ہے کہ جنت کی زندگی کے پر مسرت لمحات میں ایک لمحہ غالباً وہ بھی ہو گا جب کہ آدمی اپنے جنتی مکان میں "جنتی ٹی وی" پر پچھلے انبیاء کے واقعات کو دیکھے گا۔ پیغمبروں کی زندگی حیرت ناک واقعات کی زندگی ہے۔ ہم اس کو لفظوں کی صورت میں کتاب میں پڑھتے ہیں۔ مگر الفاظ ان کا پورا تعارف نہیں کرتے۔ جنت کا ایک آدمی اپنے " جنتی ٹی وی" کا بٹن دبا کر جب ان کو دیکھے گا تو وہ فرحت کا ایک ایسا تجربہ ہو گا جس کا آج کی دنیا میں اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ۹ اکتوبر کی سہ پہر کو میڈیٹرینین سنٹر کے ایک ہال میں پریس کانفرنس ہوئی۔ روم سے ۸۰ روز نامے نکلتے ہیں۔ ان میں سے بارہ اخبار رول کے نمائندے پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ جواب دینے والوں میں میرے سوا دو الجزائری مسلمان تھے اور ایک سوڈان کے اور ایک ایران کے عالم۔ سوالات اطالوی زبان میں کئے گئے جن کا ترجمہ ایک مسیحی پادری نے عربی زبان میں کیا۔ سوالات زیادہ تر مسلم مسیحی تعلقات کے بارے میں تھے۔ پریس کانفرنس میں روم کے ایک اخباری نمائندہ نے سوال کیا کہ مسیحی لوگوں نے روم میں مسجد بنانے کی اجازت دے دی ۔ پھر مسلمان مسیحیوں کو کہ مدینہ میں چرچ بنانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader