ایک سفر
Urdu book, p. 329
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ دعوتی شعور کی کمی ہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مولانا محمود حسن صاحب جس زمانہ میں مالٹا میں نظر بند تھے۔ ان کے خر استی عملہ کا انگریز افسران سے متاثر ہو گیا۔ کیوں کہ ان کے مشرقی انداز میں اس کو روحانی شخصیت کا حلیہ نظر آیا۔ یہ بہترین موقع تھا کہ اس انگریز کو اسلام کے قریب لایا جائے۔ مگر مولانا محمود حسن صاحب نے اس سے خلافت کے معاملہ میں انگریزوں کے ناروا سلوک پر بحث چھیڑ دی جو ایک سیاسی اور اختلافی موضوع تھا۔ چنانچہ وہ انگریز مزید اسلام سے قریب نہ ہو سکا۔ مالٹا میں مولانا محمود حسن کے تین ساتھیوں میں سے ایک مولانا وحید احمد مدنی تھے۔ وہ ہندوستان سے ہجرت کر کے عرب چلے گئے تھے ۔ وہاں مولانا محمود حسن صاحب سے وابستہ ہو گئے اور پھر ان کے ساتھ گرفتار ہو کر مالٹا چلے گئے۔ مولانا موصوف کے صاحبزادے ڈاکٹر رشید الوحیری دہلی میں ہیں اور مولانا فرید الوحیری جدہ میں مقیم ہیں۔ مولانا وحید احمد مدنی کا حافظہ نہایت قوی تھا۔ مختلف لوگوں سے تعلقات کے دوران انھوں نے کئی زبانیں سیکھ لیں ۔ عربی ، اردو ، فارسی ، انگریزی ، ترکی، فرانسیسی ، پشتو ، بنگلہ وغیرہ ۔ اگر ان کے اندر دعوتی اسپرٹ پیدا کی جاتی تو وہ کامیاب داعی بن سکتے تھے۔ مگر ان کی لیاقت غیر استعمال شدہ رہی۔ یہاں تک کہ دسمبر ۱۹۳۸ء میں ۷۵ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader