Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 330

By Maulana Wahiduddin Khan

مالٹا کے مختلف حصوں میں مجھ کو بار بار جانے کا اتفاق ہوا۔ مگر ایک بار بھی کہیں گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی نہیں دی۔ جب کہ ہندوستان کے شہروں میں ہارن کا شعور عام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہارن بجانا نہ صرف ذہنی ڈسپلن کی کمی کا ثبوت ہے۔ حقیقی ضرورت سے اس کا تعلق بہت ہی کم ہے۔ اسی طرح مالٹائیں فٹ پاتھ کی دکانداری، سڑکوں کی گندگی ، لاؤڈ اسپیکر کے ہنگامے، آپس کے لڑائی جھگڑے جیسی چیزیں کہیں نظر نہیں آئیں۔ انڈیا کا زمینی رقبہ ۲۶۹۲۲۰ مربع میل ہے، اور مالٹا کا رقبہ صرف ۱۲۲ مربع میل۔ انڈیا کے مقابلہ میں اس کے ذرائع تقریباً صفر کے بقدر ہیں۔ مگر مالٹا آج کی ترقی یافتہ دنیا کا ایک حصہ نظر آتا ہے۔ جب کہ انڈیا ہر اعتبار سے ترقی یافتہ دنیا سے پیچھے ہے۔ حتیٰ کہ مذہب اور اخلاق کے اعتبار سے بھی۔ انڈیا میں مقابلہ نہ مادی ترقی نظر آتی اور نہ مذہبی ترقی۔ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ یہاں مذہب کی بنیاد فرقہ وارانہ نفرت پر رکھی گئی اور قومی ترقی کی بنیاد سوشزم کے غیر فطری اصول پر اور دونوں ہی چیزیں صرف فساد پیدا کرنے والی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی چیز اصلاح کرنے والی نہیں۔ جدید دنیا کے دوسرے شہروں کی مانند ، مالٹا میں بھی گھر کی عورتیں باہر نکل آئی ہیں۔ مزید یہ کہ ہر عورت کی ٹانگیں کھلی ہوتی ہیں۔ ان حالات میں صرف غض بصر کافی نہیں، بلکہ اسی کے ساتھ اعراض بصر کے اصول پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ عورت کی ٹانگ کا کھلا ہونا بلا شبہ ایک وحشت خیز منظر ہے۔ مگر جدید دنیا کے تمام مقامات پر اب یہ چیز بالکل عام ہو چکی ہے۔ پچھلے مہینہ میں لاہور گیا تھا۔ وہاں کوئی ایک عورت بھی کھلی ٹانگوں والی نظر نہیں آئی۔ اب روم اور مالٹا آیا تو یہاں ہر عورت اسی وحشت ناک حلیہ میں ہر طرف چلتی پھرتی نظر آتی ہے۔ اس فرق پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ تنزل کے باوجود اب بھی مسلمانوں کی زندگی میں ایسے بہت سے ممتاز پہلو ہیں جو غیر مسلم دنیا کو اسلام کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ عام مفروضہ کے برعکس، یہ نہیں ہے کہ لوگ مسلمانوں کی بے عملی کی بنا پر اسلام سے متاثر نہیں ہوتے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کے رہنما اسلام کے نام پر غیر مسلموں سے لفظی یا عملی لڑائی لڑنے میں مشغول ہیں۔ اس بے فائدہ لڑائی نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ضد اور نفرت کی فضا پیدا کر دی ہے۔ یہی ضد اور نفرت کی فضا اسلامی دعوت کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ مسلمانوں کی اخلاقی کمزوری۔ اگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page