Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 340

By Maulana Wahiduddin Khan

دار الصحوہ نے کثیر تعداد میں عربی کتابیں چھاپی ہیں۔ وہ قاہرہ کے بڑے نشریاتی اداروں میں سے ہے ۔ اس کے تعارف نامہ میں لکھا ہوا ہے کہ دار الصحوہ صرف تجارتی دار الاشاعت کے طور پر قائم نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے سامنے ایک اسلامی نشانہ ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمانوں کے اندر حقیقی دینی فہم پیدا کرے اور ان کو جدید چیلنج کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے۔ دار الصحوہ کا مقصد ، اس کے تعارف نامہ کے مطابق ، یہ ہے کہ اہل اسلام کور و روحانی اور ثقافتی اعتبار سے بلند کرے۔ ان کے اندر اعلیٰ ترین فکری اور اخلاقی اوصاف پیدا کرے تاکہ وہ سنت اللہ کے مطابق عالمی قیادت کے مستحق بن سکیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ عالمی قیادت کا منصب انھیں کو دیتا ہے جو فکری اور اخلاقی اور ثقافتی اعتبار سے بلند درجہ کو پہنچے ہوئے ہوں ۔ دار الصحوہ کے انچارج جناب محمد کمال صاحب نے اپنے مکتبہ کی کئی کتابیں مجھے دیں۔ ان میں سے ایک شیخ شعراوی کی کتاب تھی۔ شیخ محمد متولی الشعراوی یہاں کے مشہور عالم ہیں۔ وہ زیادہ تر تقریریں کرتے ہیں۔ ان کی کچھ باتوں کا مجموعہ چھاپا گیا ہے۔ اس کو مرتب کرنے والے ابو الحسن عبد الرزاق ہیں۔ اس میں بہت سی نصیحت کی باتیں ہیں۔ ایک اقتباس میں انھوں نے کہا کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اپنے معاشرہ کو مجتمع اسلامی کہتے ہیں ۔ مگر ہم اسلامی مجتمع نہیں ۔ در اصل ہم اسلامی جغرافیہ ہیں ( نحن في الواقع لسنا مجتمعاً اسلامیاً ، نحن جغرافية اسلامية) صفحہ ۴۰ شیخ شعراوی کی یہ کتاب تمام تر خطابی انداز میں ہے۔ اس میں کسی بات کا گہرا تجزیہ مجھے نہیں ملا۔ مثال کے طور پر کتاب کے صفحہ ۳۰ پر ایک حدیث کو مختصرًا نقل کیا گیا ہے۔ اس حدیث کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ ہر قبیلہ کے منافق اس کی سرداری کریں گے (من علامات الساعة ... وليس وكل قبیلة منافقوها) اس حدیث پر انھوں نے خطابی انداز کے کچھ جملے کہے ہیں مگر وہ اس کی کوئی گہری تشریح نہ کرسکے۔ اس حدیث کا پورا مطلب اس وقت سمجھ میں آتا ہے جب کہ اس کو قرآن سے ملا کر دیکھا جائے ۔ قرآن میں منافقین کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ جب تم انھیں دیکھو تو ان کے جسم تم کو اچھے لگتے ہیں ، اور اگر وہ بات کریں تو تم ان کی بات کو سنتے ہو ( المنافقون ۴)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page