Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 339

By Maulana Wahiduddin Khan

منزلہ مکان تھا جس کی آخری منزل پر موصوف کا قیام ہے۔ ہم گاڑی سے باہر آئے تو سامنے پھولوں کی دکان تھی جو مذکورہ مکان کی زمینی منزل پر واقع ہے۔ ہم لوگ کل چار آدمی تھے۔ دکاندار فوراً اپنی دکان سے اٹھے اور کیلئے چھیل چھیل کر ہر ایک کو پیش کرنا شروع کیا۔ میں نے کہا کہ یہ عرب اخلاق کا پہلا نمونہ ہے جس کا تجربہ یہاں پہنچ کر ہم کو ہو رہا ہے۔ کچھ دقت شیخ اسحاق ادریس سوڈانی کے مکان پر گزارنے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔ رات کو عشاء کے وقت ہم اپنی قیام گاہ (زہراء حلوان) پہنچے۔ یہ ڈاکٹر عبد العلیم عویس کا مکان ہے۔ انھیں کی دعوت اور اسرار پر مصر کا یہ سفر پیش آیا۔ وہ ریاض کی جامعۃ الامام میں علوم اجتماعی کے شعبہ میں استاد ہیں۔ ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ابن خلدون ۱۳۸۴ء میں قاہرہ آیا تھا۔ اس وقت بحری راستہ کے ذریعہ تونس سے اسکندریہ (مصر) پہنچنے میں ابن خلدون کو چالیس دن لگے۔ چند روز اسکندریہ ٹھہر کر وہ قاہرہ پہنچا۔ آج مراصلات کی ترقی نے سفر کی مدت کو کتنا زیادہ گھٹا دیا ہے۔ یہ مواصلاتی ترقیاں شاید اسی لئے ہیں کہ لوگوں کو اہل جنت کے سفروں کا تعارف کرایا جائے جو زمین و آسمان کی وسعتوں میں بلا خوف تیز رفتاری کے ساتھ جاری رہے گا ( آل عمران ۱۳۳ ) اگر چہ قاہرہ کی تاریخ پانچ ہزار سال تک جاتی ہے۔ مگر موجودہ شہر صحابی رسول عمر بن العاص نے ۶۴۱ ء میں بسایا۔ اس وقت اس کا نام الفسطاط تھا۔ اسی سال انھوں نے مصر کی پہلی مسجد اسی شہر میں بنائی جو اب بھی مسجد عمروبن العاص کے نام سے مشہور رہے۔ ۶۹۷ء میں شہر کی نئی تعمیر ہوئی۔ اس وقت سے اس کا نام القاہرہ ہے۔ ۷۹۸ ء میں جب نپولین قاہرہ میں داخل ہوا اس وقت شہر کی آبادی تین لاکھ (300,000) سے کم تھی۔ آج قاہرہ کی آبادی تقریباً ۸۰ لاکھ ہو چکی ہے۔ " دار الصحوۃ " کو تفصیل کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کو ڈاکٹر عبد العلیم عویس (جامعۃ الامام ریاض) نے ۱۹۸۴ء میں قاہرہ میں قائم کیا۔ اس کے موجودہ انچارج محمد کمال عبد رب البنی ہیں۔ محمد کمال صاحب میں واقعی کمال کے اوصاف ہیں۔ قاہرہ میں ڈاکٹر عبد العلیم عویس اور محمد کمال عبد رب البنی کے خصوصی تعاون کی وجہ سے ہم کو بہت آسانی ہوئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page