ایک سفر
Urdu book, p. 344
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت بڑا ہونے کے باوجود تناسب الاعضاء ہے ۔ تاہم مجھ کو وہ اتنا زیادہ تناسب نظر نہیں آیا جتنا مذکورہ سیاح نے بتایا ہے۔ اہرام دیکھنے کے دوران ایک موقع پر تمام سواریاں روک دی گئیں۔ اتنے میں ایک درجن کاروں کا قافلہ خاص آداب کے ساتھ آیا۔ معلوم ہوا کہ وزیر اعظم مالٹا اہرام دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔ یہی دھوم پچھلے دن قاہرہ کے ہوائی اڈہ پر نظر آئی تھی جب کہ مالٹا کے وزیر اعظم طاہرہ ایئر پورٹ پر اترے تھے۔ مالٹا میں ہم نے دیکھا تھا کہ وزیر اعظم وہاں عام انسانوں کی طرح رہتا ہے۔ مگر قاہرہ آتے ہی اس کے ساتھ شاہانہ آداب کا منظر دکھائی دینے لگا۔ کتنا فرق ہے ایک ملک اور دوسرے ملک میں۔ ایک انگریزی اخبار میں ایک دلچسپ مضمون پڑھا۔ اس کے ساتھ ایک تصویر بھی شامل تھی ۔ اس تصویر میں مصر کے تین اہرام نظر آ رہے تھے۔ دوسری طرف اونٹ اپنی روایتی صورت میں موجود تھے۔ اسی کے ساتھ اہرام کے سامنے کھلے ہوئے میدان میں ایک چاند گاڑی تھی۔ اس کے اوپر ایک آدمی خلائی لباس (اسپیس سوٹ) پہنے ہوئے دکھائی دے رہا تھا۔ تصویر کے اوپر لکھا ہوا تھا؛ کیا خلائی تحقیق کرنے والے قدیم مصر میں اترے تھے ۔ یہ ایک فرضی قیاس آرائی تھی۔ مگر آرٹسٹ کے قلم نے کاغذ کے اوپر اس کو ایک واقعہ کی صورت میں ڈھال دیا۔ اگر آپ صرف کاغذ کا غذى نقشہ کو دیکھیں تو وہ آپ کو واقعہ معلوم ہو گا ۔ اور اگر آپ اپنے ذہن کو استعمال کریں تو آپ پر کھلے گا کہ وہ صرف ایک لطیفہ ہے۔ اس دنیا میں اگر کوئی شخص صرف ظاہر کی بنیاد پر رائے قائم کرے تو وہ کبھی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہاں حقیقت کو صرف وہ شخص پاتا ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ استاد محمد کمال نے نہر سوئز جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ صبح کو قاہرہ سے بذریعہ کار سوئز جانا اور پھر شام تک وہاں سے واپس آنا تھا۔ مجھے خود بھی سوئز دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ مگر بعض دوسری مصروفیتوں کی وجہ سے میں سوئز کا سفر نہ کر سکا۔ سوئز کی تاریخ کے ساتھ طرح طرح کے خوشگوار اور ناخوش گوار واقعات شامل ہیں۔ سوئز وہ مصنوعی نہر ہے جو میڈی ٹیرینین اور ریڈسی کو ملاتی ہے اور اس طرح یورپ اور مشرقی دنیا کے درمیان بحری سفر کو مختصر کر دیتی ہے۔ اس نہر کا تخیل کافی قدیم ہے ۔ ۱۸۵۶ میں سوئز کینال کمپنی بنی ۔ ۱۸۵۹

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader