Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 345

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کھدائی کا کام شروع کیا جو آخری طور پر ۱۸۶۹ میں مکمل ہوا۔ نومبر ۱۹۶۹ میں وہ جہاز رانی کے لئے کھول گئی ۔ مختلف حالات سے گزرتے ہوئے یہ کمپنی فرانس اور برطانیہ کی ملکیت میں آگئی۔ ابتدائی ٹھیکہ کے مطابق، سوئیز پر کمپنی کا کنٹرول ۹۹ سال تک رہنا تھا جو ۱۹۶۸ میں ختم ہوتا تھا۔ آخری زمانہ میں سوئیز کے کل منافع میں مصر کا حصہ سات فیصد تھا۔ کمپنی کے کارکنوں میں زیادہ تعداد مصریوں کی ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ کمپنی کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ وہ علاقہ میں اسپتال، اسکول وغیرہ قائم کرے۔ حوالہ کے لئے: انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، جلد ۱۷، صفحہ ۷۸ے مصر میں جمال عبد الناصر کی حکومت آئی تو انہوں نے اسواں ڈیم کا منصوبہ بنایا ۔ امریکہ نے اس کے لئے، ۲ کروڑ ڈالر (270,000,000 $) کی اقتصادی مدد منظور کی ۔ برطانیہ نے بھی مدد کا وعدہ کیا۔ مگر جمال عبد الناصر نے اس کے ساتھ اندر اندر کمیونسٹ بلاک سے تعلقات قائم کر لئے۔ انھوں نے چیکو سلاویکیا سے ہتھیار حاصل کرنے کا خفیہ معاملہ کیا۔ اس پر امریکہ بگڑ گیا۔ اس نے ڈیم کی امداد روک دی۔ اس کے بعد ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۶ کو جمال عبد الناصر نے تالیوں کی گونج کے درمیان اعلان کیا کہ آج ہم نے نہر سوئیز کو نیشنلائز کر لیا اور اب ہم اس کی آمدنی سے اسواں ڈیم کی تعمیر کریں گے ۔ (12/844) جمال عبد الناصر کے اس اقدام نے مغربی قوموں کو ان کا دشمن بنا دیا۔ اس کے فورا بعد فرانس اور برطانیہ نے اسرائیل کے ذریعہ مصر پر حملہ کرادیا۔ خود بھی پوری طرح اس کی مدد کی۔ اس حملہ میں مصر کی فوجی طاقت کچل کر رہ گئی ۔ اسرائیل نے مزید اطراف کے علاقوں پر قبضہ کرکے اپنے رقبہ کو پانچ گنا بڑھا لیا۔ جمال عبد الناصر اگر ۱۲ سال انتظار کرتے تو سوئیز کمپنی معاہدہ کے مطابق اپنے آپ ختم ہو جاتی۔ مگر ان کے عاجلانہ اقدام نے مصر کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ جو چیز ۱۹۶۸ میں اپنے آپ مل جاتی، اس کو ۱۹۵۶ میں پیشگی طور پر حاصل کرنے کی کوشش مصر کے حق میں الٹی ثابت ہوئی۔ ایک ہندوستانی مصنف کی عربی کتاب قاہرہ سے چھپی ہے۔ اس کا نام ہے: المسلمون فی الهند، بين خدعة الديمقراطية واكذوبة العلمانية ۔ میں نے پڑھنے کے لئے لیا تو اس کا پہلا جملہ یہ تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے انڈیا کے ہندوؤں نے طے کر لیا ہے کہ دہ آئین کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page