ایک سفر
Urdu book, p. 347
By Maulana Wahiduddin Khan
انور السادات کے زمانہ حکومت میں سبعینات میں انھوں نے وزیر اوقاف کا عہدہ قبول کر لیا۔ اس کے بعد عوام کے درمیان ان کی مقبولیت بہت کم ہو گئی۔ وہ "سرکاری مولوی" سمجھے جانے لگے۔ شیخ شعراوی نے اس فرق کو محسوس کیا اور 1979ء میں وزارت سے الگ ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے کبھی حکومت میں کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔ آج وہ مصر کے مقبول ترین عالم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ صورتِ حال موجودہ زمانہ میں اسلام کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کچھ نا عاقبت اندیش قائدین نے یہ روایت قائم کی ہے کہ اسلام کا سب سے بڑا کام حکومت کا مخالف بن کر کھڑا ہونا ہے۔ اسلام کے نام پر جاری کی جانے والی اس غیر اسلامی سیاست نے اسلام کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی دشمن نے بھی اسلام کو نقصان نہیں پہنچایا۔ موجودہ زمانہ میں تمام اعلیٰ ذرائع حکومت کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔ ان ذرائع کو استعمال کرکے اسلام کی عظیم خدمت کی جا سکتی ہے۔ مگر غلط طور پر یہ صورتِ حال بن گئی ہے کہ جو شخص حکومت کے قریب ہو وہ مسلم عوام سے دور ہو جاتا ہے اور جو شخص مسلم عوام سے قریب ہو نا چاہیے اس کو حکومت سے دور ہونا پڑتا ہے۔ رجا بن حیوہ نے سلطان وقت سے قریب ہو کر عمر بن عبد العزیز جیسے انسان کے لئے خلافت کا راستہ کھولا ۔ مگر آج کوئی عالم رجا بن حیوہ بننے کی جرات نہیں کر سکتا۔ سعودی عرب میں شیخ ابن باز، مصر میں شیخ طنطاوی اور بشام میں شیخ گفتار و حکومت سے مل کر دین کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ عوام میں غیر مقبول ہیں۔ دوسری طرف جو علما، حکومت سے لفظی یا عملی ٹکر لے رہے ہیں، انھوں نے کوئی بھی حقیقی فائدہ نہیں پہنچایا، مگر عوام میں انھیں کو مقبولیت حاصل ہے۔ قاہرہ کے زمانہ قیام میں محمد الخطیب کی کتاب بالا سلام مصر دولۃ عظمی دیکھی۔ پوری کتاب خطیبانہ انداز میں ہے۔ ۳۳۳ صفحہ کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری کے اندر شگری ہیجان کے سوا اور کچھ پیدا نہیں ہو سکتا۔ جبکہ صحیح کتاب وہ ہے جو آدمی کے اندر سنجیدہ تعمیری ذہن پیدا کرے ۔ کتاب کا خلاصہ موجودہ مسلمانوں کو ابھار کر ان کے اندر وہ چیز پیدا کرنا ہے جس کو مصنف نے الشخصية الجها دية للفرد والامة علی السواء (صفحه ۱۳۱۳) کہا ہے۔ کتاب میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ مسلمان عظیم تاریخ کے وارث ہیں۔ وہ امت عالم اور قیادت بشری کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader