Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 346

By Maulana Wahiduddin Khan

قصہ کو انڈیا کے مسلمانوں کے ساتھ دہرائیں ( يبد و ان الهندوس في الهند قرروا ان يقوموا بتكرير قصة الاندلس) پوری کتاب انشائی انداز میں ہے۔ حقائق سے صرف نظر کر کے اس میں الفاظ کا جوش وخروش دکھایا گیا ہے۔ آخر میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے افغانی جنگجوؤں کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے : وان شعبنا الھند ی المسلم الذی یزید عدده عن عدد المجاهدين الافغان سبعة أضعاف يستطيع ان يستفيد من الدرس الافغانی ولا يستوعبه (صفحہ ۷۹) یہ سب باتیں اتنی بے معنی ہیں کہ مجھے ان لوگوں کی عقل پر حیرت ہوتی ہے جو اس کو لکھیں اور ان لوگوں کی عقل پر بھی حیرت ہوتی ہے جو اس کو چھاپ کر پھیلائیں۔ ایک مصری مصنف (عبد المجید صبح ) کی کتاب دیکھی۔ ۴۰ صفحہ کی اس کتاب کا نام حقائق الاسلام بين الجهاد والجهود تھا ۔ اس کتاب کے ٹائٹل پر دو تلواریں بنی ہوئی تھیں ۔ ایک تلوار مسلم ملت کو سیاسی حیثیت سے قتل کر رہی تھی اور دوسری تلوار اس کو دینی حیثیت سے۔ پوری کتاب جدلی انداز میں ہے۔ مگر اس کے تعارف میں ٹائٹل کے آخری صفحہ پر بتایا گیا ہے کہ وہ منہج علمی پر لکھی گئی ہے ۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مصنفین اسلام منہج علمی کو جانتے بھی نہیں۔ کجا کہ وہ منہج علمی پر کتاب لکھ سکیں ۔ عربوں کی موجودہ نفسیات کی بنا پر جہاد کی باتیں ان کو بہت پسند آتی ہیں۔ کتابوں کے جارحانہ ٹائٹل اور ٹائٹل کے اوپر عسکری آرٹ ان کے درمیان بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے میں کناہروں کی ایک دکان میں داخل ہوئے۔ معمولی مشاہدہ میں دس سے زیادہ ایسی کتابیں نظر آئیں جن کے ٹائٹل پیج پر تلوار کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔ مثلاً ـــــــــ مقام الصحابة ، حقائق الاسلام ، خفقات قلب ، شهداء الصحابة ، الدولة والسلطة في الاسلام ، السبحة والدمان الفارس المصلوب عبد الله بن الزبير، شهيد المحراب عمر بن الخطاب، الاعلام الخليجي ، صور وبطولات ، وغيره ۔ الشیخ محمد متولی الشعراوی مصر کے بڑے عالموں میں سے ہیں۔ وہ لوگوں میں بہت مشہور تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page