Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

تو شاید وہ اتنی مؤثر نہ ہوتی" صفحہ ۳۳ سید ابو الاعلیٰ مودودی کا یہ جواب غیر ذمہ دارانہ حد تک غلط ہے۔ مزید غیر ذمہ داری کی بات مولانا موصوف کے رفیق کا یہ جملہ ہے کہ "یہ جواب نہایت مؤثر رہا" گویا مسئلہ سنجیدہ حقیقت بیانی کا نہیں بلکہ مجلسی اثر آفرینی کا ہے۔ کیسی عجیب ہے یہ بات۔ جواب کے اس انداز کو میں حد درجہ غیر اسلامی اور غیر اخلاقی سمجھتا ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ ہندستان کے مسلمانوں کو بعض مسائل درپیش ہیں۔ مگر وہ کون سا ملک ہے جہاں کسی نہ کسی قسم کے مسائل درپیش نہ ہوں۔ پھر ہندوستان ہی کو ان مسائل کے لئے مطعون کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ مارچ ۱۹۸۳ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں ایک عرب ملک میں تھا۔ ایک عرب شیخ نے اپنے مکان پر دعوت کا اہتمام کیا۔ بہت سے لوگ مدعو تھے۔ یہاں میری ملاقات ہندوستان کے ایک اسلام پسند رہنما سے ہوئی۔ ایک عرب شیخ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو مسجد کے اندر بھی سجدہ کرنے کی اجازت نہیں۔ میں نے آہستہ سے پوچھا : حضرت، آپ کس ہندوستان کی بات کر رہے ہیں۔ وہی ہندوستان جہاں میں رہتا ہوں یا کوئی اور۔ انھوں نے فوراً صفدر جنگ (دہلی) کی مسجد کا نام لیا۔ میں نے کہا، پھر مطلق انداز میں ممانعت سجدہ کی بات کیوں کر رہے ہیں۔ آپ کو کہنا چاہئے کہ ہندوستان میں لاکھوں مسجدیں ہیں جن میں مسلمانوں کو نماز کی آزادی ہے۔ البتہ ایک مسجد (صفدر جنگ) میں انہیں یہ آزادی حاصل نہیں جو بہت پہلے سے آثار قدیمہ کے ماتحت ہے۔ دمشق سے جہاز پر ۸۰ مسافر سوار ہوئے۔ یہ سب "زیارت" کے لوگ تھے ۔ وہ پاکستان سے دمشق اور بغداد برائے زیارت گئے۔ وہاں حضرت زینب، حضرت حسین وغیرہ کے مزارات ہیں۔ اب وہ پاکستان واپس جا رہے تھے۔ میرے پاس کی سیٹ پر ایک صاحب آکر بیٹھ گئے۔ ان کا نام محمد عباس کاظمی تھا۔ وہ لاہور میں کتابوں کی دکان کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ دہلی میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۴۲ء میں وہ لاہور چلے آئے۔ ان کے بال سفید ہو چکے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے دونوں زمانوں کو دیکھا ہے۔ یہ بتائیے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے والی زندگی میں اور موجودہ پاکستان کی زندگی میں کیا فرق ہے۔ انھوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page