Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

صدر جَسِیْت پاتل نے اپنے ایک مراسلہ میں کہی جو ٹائمس آف انڈیا (۲۰ جون ۱۹۸۸) میں چھپا تھا۔ مَسْر جَسِیْت پاتل نے اپنے دعوے کی تائید میں مورخ بلاذری کا حوالہ دیا تھا۔ مگر یہ حوالہ سراسر غلط ہے۔ احمد بن یحییٰ البلاذری (م ۸۹۲ ء) کی کتاب فتوح البلدان میں اس قسم کی کوئی بات موجود نہیں۔ بلکہ اس کتاب میں محمد بن القاسم کی تصویر اس سے یکسر مختلف نظر آتی ہے جو مذکورہ مضامین میں اس کی بتائی گئی تھی۔ عربوں نے سندھ کو آٹھویں صدی عیسوی (۷۱۲ ء) میں فتح کیا تھا۔ اور البلاذری کا زمانہ نویں صدی عیسوی ہے۔ اس طرح وہ ایک قریب العہد مورخ ہے۔ البلاذری نے جو کچھ لکھا ہے، اس میں ایک بات یہ ہے کہ دمشق میں اندرونی سازشوں کی وجہ سے نوجوان محمد بن القاسم کو دمشق واپس بلا لیا گیا جہاں اس کو قید کر دیا گیا۔ تاہم سندھ میں وہ نہایت نیک نام تھا۔ چنانچہ سندھ کے مقامی باشندوں کے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے البلاذری نے لکھا ہے کہ ان کو جب اس کی خبر ملی تو ہندوستان کے لوگ روئے اور انھوں نے کیرج کے مقام پر محمد بن القاسم کا بت بنایا (فبكى اهل الهند وصوروه بالكيرج، صفحه ۲۳۶) محمد بن القاسم کا کردار اگر وہ ہوتا جو ہندو مہاسبھا کے صدر یا آرگن رائزر کے مضمون نگار بتا رہے ہیں تو یہ ناممکن تھا کہ اہل سندھ کے درمیان اس کو یہ محبوبیت اور مقبولیت حاصل ہو کہ وہ اس کے سندھ سے جانے کے بعد اس کا ماتم کریں، حتیٰ کہ اس کا بت بنائیں اور اس کے سامنے غیر معمولی عقیدت و احترام کا اظہار کریں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳-۱۹۷۹) نے ۱۹۵۹ کے آخر میں بعض عرب ممالک کا دورہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں وہ شام (دمشق) میں بھی چند دن ٹھہرے ۔ اس سفر کی روداد مولانا موصوف کے رفیق سفر مولانا محمد عاصم صاحب نے مرتب کی ہے جو ” سفر نامہ ارض القرآن“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے : ”مولانا ان کے سوالات کا اطمینان اور تفصیل سے جواب دیتے رہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق مولانا نے بتایا کہ ان کی حالت ویسی ہی ہے جیسے اسرائیل میں عربوں کی۔ یہ مختصر جواب نہایت مؤثر رہا۔ اس مثال کے بغیر اگر ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کے متعلق کوئی مفصل تقریر بھی کی جاتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page