Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 350

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۲ اکتوبر کو ۱۰ بجے، ہم قاہرہ کے تاریخی مقامات دیکھنے کے لئے نکلے۔ ہم سڑک سے گزر رہے تھے اور ہمارے رفیق محمد کمال صاحب ہر چیز کا تعارف کراتے جا رہے تھے۔ ایک جگہ نظر آیا کہ سڑک کے کنارے اونچی فصیلوں سے گھری ہوئی عمارت ہے۔ فصیل کے اوپر جگہ جگہ سپاہی بندوق لئے ہوئے کھڑے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ یہاں کا سنٹرل جیل ہے۔ میرے رفیق نے کہا کہ یہ جیل ہے۔ اخوان کے لوگوں کو اسی کے اندر سخت سزائیں دی گئی تھیں (هذا سجن ۔ عُذّب فيه الاخوان المسلمون) سڑک کے دوسری طرف دریائے نیل بہہ رہا تھا۔ میں نے اس کو بہت غور سے دیکھا۔ نیل کے متعلق مضامین اور کتابوں میں جو کچھ پڑھا تھا، اس سے ذہن میں نیل کے بارہ میں ایک عجیب افسانوی تصور تھا۔ مگر نیل ویسا ہی ایک بڑا دريا نظر آیا جیسے دوسرے بڑے دریا ہوتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سن کر یا پڑھ کر آدمی کے ذہن میں کسی چیز کے بارہ میں ایسا تاثر قائم ہو جاتا ہے جو واقعہ کے مطابق نہیں ہوتا۔ کبھی اصل واقعہ سے کم اور کبھی اصل واقعہ سے زیادہ۔ سڑک کے دونوں طرف اونچی بلند نگیں اسی طرح دکھائی دے رہی تھیں جس طرح ماسکو میں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ جمال عبد الناصر کی دین ہے۔ ناصر نے مصر کی ترقی کے لئے سوشلسٹ نمونہ اختیار کیا۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ جن لیڈروں نے سوشلسٹ نمونہ کو اختیار کیا انھوں نے صرف ملک کو برباد کیا۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے امریکی نمونہ کو اختیار کیا، وہ کم از کم دنیوی اعتبار سے اپنے ملک کو ترقی دینے میں کامیاب ہو گئے۔ مسجد صلاح الدین کو ہم نے باہر سے دیکھا۔ اس کو دیکھ کر اسلامی تاریخ کی اس مشہور شخصیت کی یاد تازہ ہو گئی۔ جس نے اپنی ذات سے ایک نئی تاریخ بنائی۔ چلتے ہوئے ہم مسجد عمرو بن العاص پہنچے۔ یہ عمرو بن العاص صحابی نے ۵۱ھ میں تعمیر کرائی تھی۔ ابتدائی مسجد کھجور کے تنوں پر بنائی گئی تھی۔ اس کے بعد مختلف سلاطین کے زمانہ میں اس میں ترمیم اور اضافہ ہوتا رہا۔ تاہم مسجد کی شکل بنیادی طور پر وہی ہے جو ابتدا میں تھی۔ کھجور کے تنوں کا قائم مقام آج پتھر کے بنے ہوئے گول ستون ہیں۔ اس مسجد کا طرز عام مساجد سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے اندر چلتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے، ہم تاریخ کے درمیان سفر کر رہے ہیں۔ چودہ سو سالہ تاریخ کے دونوں سرے ایک لمحہ کے لئے ملتے ہوئے نظر آئے ۔ مسجد کے باہر ایک کتبہ لگا ہوا ہے اس کی ابتدائی دو سطریں یہ ہیں :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page