ایک سفر
Urdu book, p. 351
By Maulana Wahiduddin Khan
جامع عمروبن العاص ۲۱ هـ - ۶۴۲ م : اول المساجد التي أنشأت في مصر و افريقيا واول جامعة علمية في مصر أسسها عمر و ابن العاص ۔ ظہر کی نماز ہم نے اسی مسجد میں پڑھی۔ مسجد کے اندرونی حصہ میں وضوخانہ نہیں تھا۔ معلوم ہوا کہ وضوخانہ باہر بنا ہوا ہے۔ ہم عقبی دروازہ سے باہر نکلے ۔ مسجد سے متصل ایک لمبی اور وسیع پٹی کے دوسری طرف وضوخانہ کی عمارت تھی ۔ مسجد اور وضوخانہ کے درمیان خالی زمین جو یقین مسجد ہی کی زمین تھی وہ کوڑا خانہ کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ اس کے بعد ہم المتحف المصری (مصری میوزیم) پہنچے۔ اس کے گیٹ پر پہنچے تو میرے مصری ساتھی نے کہا : لما دخل هذا المتحف من قبل ۔ اول مرة ادخل - عام طور پر میں نے دیکھا ہے کہ اس طرح کی چیزوں سے مقامی لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ باہر کے لوگ افسانوی شوق لے کر اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ مگر مقامی لوگ کم ہی اس کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اسی متحف میں اس فرعون کی مومیائی کی ہوئی لاش ہے جو موسیٰ علیہ السلام کا ہم زمانہ تھا۔ اس کو تاریخ میں ریمس ثانی (Ramses II) کہا جاتا ہے۔ قاہرہ کا جامعۃ الازہر (ازہر یونیورسٹی) جامعۃ القرویین کے بعد قدیم ترین مسلم درس گاہ ہے۔ اس کو دولت فاطمیہ نے ۹۷۰ء میں قائم کیا تھا۔ اس میں طلبہ کی تعداد ۳۰ ہزار سے زیادہ ہے۔ اسلام نے دور اول میں علم کا جبر طاقتور رجحان پیدا کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام صدیوں میں تعلیمی کالج اور مدرسے پوری مسلم دنیا میں اسپین سے لے کر وسط ایشیا اور ہندوستان تک قائم ہوگئے۔ اسپین وہ مقام تھا جہاں سے فلسفہ اور سائنس منتقل ہو کر یورپ پہنچے : علمی ترقی اور تعلیمی توسیع کا یہ سارا کام خلافت راشدہ کے بعد اس وقت ہوا جب کہ مسلم حکمرانوں میں بگاڑ آگیا تھا۔ یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق ، مسلم علما اور دانشوروں نے یہیں انسان حکمت اختیار کی کہ انھوں نے " اصلاح سیاست" کے نام سے حکمرانوں سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ انھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader