Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 353

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۴ اکتوبر کی صبح کو کئی عرب نوجوان میری قیام گاہ پر آگئے۔ دیر تک ان سے باتیں ہوتی رہیں ۔ گفتگو کا موضوع " اسلامی دعوت عصر حاضر میں " تھا۔ ایک عرب نوجوان نے خیارکم فی الجاهلية خياركم في الاسلام کی تفسیر پوچھی۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں تحویل (conversion) کا قانون رائج ہے ۔ ابتدائی لوہا پر عمل کر کے اس کو اسٹیل بنایا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اس کے اندر بالفعل وہ صفت پیدا ہوجاتی ہے جس کو قرآن میں بأس شدید کہا گیا ہے۔ مگر یہ بأس شدید لوہے پر عمل کر کے حاصل ہوگی۔ مٹی یا لکڑی پر عمل کر کے آپ اس کو اسٹیل نہیں بنا سکتے ۔ یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔ جن لوگوں کے اندر قومی شخصیت موجود ہو انہیں کی تربیت کر کے ان کو اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کام کر سکیں۔ ضعیف شخصیت کے لوگوں پر عمل سے یہ فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے عربوں پر عمل کیا تو ان سے ابطال کا ایک گرہ رہ وجود میں آگیا۔ آپ نے مدینہ کے یہود پر عمل کیا مگر ان سے اس قسم کا کوئی گروہ نہ بن سکا۔ اسی طرح دور عباسیہ کے مسلمان شخصی کمزوری کا شکار ہو چکے تھے۔ اس لئے ہر قسم کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے باوجود وہ اسلام کے قائد نہ بن سکے۔ تا تاری مفسد اور ظالم تھے مگر جب وہ بدلے تو انہیں کے اندر سے وہ قوم ابھری جس نے صدیوں تک اسلام کی پاسبانی کی ۔ موجودہ زمانہ کے مسلم اہل فکر کی کمزوری یہ ہے کہ وہ قوموں کے صرف ”ظلم “ کو دیکھ پاتے ہیں۔ ان کو قوموں کے اندر چھپے ہوئے امکانی اوصاف نظر نہیں آتے ۔ اس لئے بے شمار کوششوں کے باوجود وہ ایسا نہ کرسکے کہ دوبارہ اسلام کی علمداری کرنے کے لئے کوئی طاقت درگروہ وجود میں لاسکیں ۔ ۱۳ اکتوبر کو فجر کی نماز جدید مصر میں مسجد یوسف الصحابی (میدان الحجاز ) میں پڑھی۔ نماز کے بعد اکثر نمازی مسجد میں بیٹھ گئے اور قرآن کے نسخے لے کر ہلکی آواز میں پڑھنے لگے۔ مصریوں میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ بڑے ذوق وشوق سے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ۔ قومی اعتبار سے غالب آ یہ بات سب سے زیادہ مصر کے اندر پائی جاتی ہے۔ غالب اُسی لئے کہا گیا ہے کہ نزل القرآن فی الحجاز وقری فی مصر ۔ مسجد کے اندر رجح جگہ اس مضمون کی تختی دیوار پر لگی ہوئی تھی ۔ تنبيه : ضع حذاءك وأمتعتك أمامك ۔ ( اپنا جوتا اور اپنا سامان اپنے سامنے رکھئے ) قاہرہ کی کئی مسجد میں میں نے نماز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page