ایک سفر
Urdu book, p. 352
By Maulana Wahiduddin Khan
نے حکمرانوں سے تعرض نہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو، ہمہ تن دینی اور سائنسی علوم کی ترقی میں لگا دیا۔ اس حکمت کی بنا پر انھیں حکمرانوں کا زبردست تعاون حاصل ہوا ۔ حتی کہ اسلام کی عظیم الشان علمی تاریخ وجود میں آگئی۔ اس کے برعکس مسلم علماء اور مسلم دانشور اگر مسلم حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دیتے تو وہ "شہداء" کی تعداد میں تو ضرور اضافہ کرتے مگر وہ اسلام کے لئے کوئی تاریخ ساز کارنامہ انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ایک صاحب نے مجھے ایک کتاب دی۔ یہ جامعۃ الازہر کی طرف سے چھپی ہے۔ اور اس کو وسیع پیمانہ پر تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا نام ہے: واجبات الامة نحو كاشف الغمة صلى الله عليه وسلم۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے امت کی ذمہ داریاں۔ میں نے اس کتاب کو دیکھا۔ اس کتاب کے مضامین کا اندازہ اس کی فہرست سے بخوبی طور پر ہوتا ہے۔ یہ فہرست حسب ذیل ہے: الواجب الاول الایمان بنبوته والتصدیق برسالته صلى الله علیه وسلم الواجب الثانی طاعته فيما امر به واجتناب ما نهى عنه صلى الله علیه وسلم الواجب الثالث احياء سنته الشريفة و اماتة البدعة الواجب الرابع محبته و شوق لقائه صلى الله علیه وسلم الواجب الخامس تعظیم شانه و توقیرہ صلى الله علیه وسلم الواجب السادس الصلاة و السلام على رسول الله صلى الله علیه وسلم الواجب السابع زيارة مسجده الشريف صلى الله علیه وسلم ۴۹ صفحہ کی اس کتاب میں بظاہر امت محمدی کے تمام واجبات بیان کر دئے گئے ہیں۔ مگر اس میں وہی چیز حذف ہے جو امت کے تمام واجبات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ یعنی شہادت حق اور دعوت الی اللہ۔ سنت کے باب میں مونچھ کاٹنے اور داڑھی بڑھانے تک کی سنت کا ذکر ہے۔ مگر اس میں سنت دعوت کا کوئی ذکر نہیں۔ بعد کے دور میں لکھی جانے والی تمام کتابوں کا یہی حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا تصور ہی امت کے زندہ شعور سے حذف ہو گیا ہے۔ حتی کہ جو لوگ بظاہر دعوت و تبلیغ کا نام لیتے ہیں وہ بھی دوسرے کاموں کو دعوت و تبلیغ کا عنوان دئے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader