Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 356

By Maulana Wahiduddin Khan

قاہرہ کی سڑکوں پر عورتیں کثرت سے اسکرٹ پہنے ہوئے نظر آتی ہیں۔ میں نے ایک مصری بزرگ سے پوچھا کہ یہاں اسکرٹ کا رواج کیسے شروع ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ مغربی سیاحوں کا سیلاب ہے۔ چوں کہ مصر میں کثرت سے تاریخی مقامات ہیں۔ اس لئے مغربی ملکوں کے مرد اور عورت بڑی تعداد میں سیاحت کے لئے آتے ہیں۔ ان کے اثر سے یہ بدعت یہاں شروع ہوئی۔ وہ بظاہر یہاں بطور سیاح آتے ہیں مگر اسی کے ساتھ وہ یہاں اپنی تہذیب بھی پھیلا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ واقعہ کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پیاسا گویا کہ خود کنویں کے پاس آرہا ہے۔ انسان بظاہر خواہ کچھ بھی ہو، اپنی فطرت کے اعتبار سے ہمیشہ وہ حق کا متلاشی ہوتا ہے۔ آپ اس دوسرے پہلو کو دیکھیں اور ان کو اپنا حریف سمجھنے کے بجائے ان کو اپنا مدعو سمجھیں ۔ آپ ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کریں جو سچا دین ہونے کی بنا پر ہر ایک کا مطلوب ہے۔ اگر آپ اس دعوتی کام کو منظم انداز سے جدید معیار پر کریں تو جو داعی ہے وہ خود آپ کا مدعو بن جائے گا۔ یہ لوگ انشاء اللہ بڑی تعداد میں اسلام قبول کریں گے۔ یہاں تک کہ نئی تاریخ وجود میں آجائے گی۔ ۴ اکتوبر کو قاہرہ سے روانگی کا دن تھا۔ فجر کی نماز مسجد الفرقان میں پڑھی۔ وہاں پہنچی تو دروازہ کے باہر نوٹس بورڈ پر چلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا : أخی المصلی ، ضـع مـتاعك امامك مسجد اس لئے تھی کہ آدمی اپنا سامان اپنے پیچھے چھوڑ کر بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھے ۔ مگر آج نمازی صرف اس وقت اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے جب کہ اس نے اپنا سامان اپنے سامنے رکھا ہو۔ اس قسم کے اعلانات بتلاتے ہیں کہ قومی کردار کی حالت قومی عقیدہ کے مطابق نہیں۔ امام نے اپنی قرات میں قرآن کا وہ حصہ پڑھا جس میں یہ آیت ہے : قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان يأتو بمثل هذا القرآن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا - میں نے سوچا کہ خود یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی مطلق تحدی ماللک کائنات کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا اور نہ کبھی کوئی ایسی تحدی کر سکا۔ ۴ اکتوبر کو قاہرہ سے واپسی ہوئی۔ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میں قاہرہ ائیر پورٹ پہنچا۔ ائیر پورٹ پر میرے قریب دوسری مسافر آج کا اخبار الجمهورية پڑھ رہے تھے میں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page