Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 357

By Maulana Wahiduddin Khan

دیکھا تو اس کے صفحہ اول پر صدر مصر کی کافی بڑی اور رنگین تصویر چھپی ہوئی تھی۔ یہ مسلم ملکوں کا عام مزاج ہے۔ امریکہ اور یورپ کے اخباروں میں آپ کو اس قسم کا منظر دکھائی نہیں دے گا۔ ۴ اکتوبر کو میں قاہرہ ایئر پورٹ پر ظہر کی نماز ادا کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک مسافر آئے۔ انھوں نے پیچھے سے مجھے چھوا اور گھما کر میرا رخ صحیح سمت میں کر دیا۔ میں نے سوچا کہ اسلام میں ایک مقررہ "سمت قبلہ" ہے جو ہر ایک کو معلوم ہے۔ گویا اسلام میں ہر ایک کے پاس ایک معلوم کسوٹی ہے۔ ہر ایک کے لئے ممکن ہے کہ دوسرے شخص کو اس کسوٹی پر جانچے اور جس شخص میں انحراف پائے اس کو سیدھے رخ پر کھڑا کر دے۔ ایسی حالت میں نہ کسی شخص کو رخ کی تصحیح میں بخل کرنا چاہئے اور نہ کسی کو اس پر برا ماننا چاہئے کہ اس نے اس کو اسلام کی کسوٹی پر جانچا اور اس کے رخ کو صحیح سمت میں پھیرنے کی کوشش کی۔ گلف ایئر کی فلائٹ نمبر ۷۴ کے ذریعہ قاہرہ سے واپس روانگی ہوئی۔ جہاز کے اندر گلف ایئر کا فلائٹ میگزین گولڈن فالکن (Goldenfalcon) کا شمارہ اکتوبر ۱۹۹۱ دیکھا۔ اس کے ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انگریزی زبان میں عربی کے سیکڑوں الفاظ ہیں جو پچھلے ایک ہزار سال کے دوران اس میں شامل ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں کچھ الفاظ درج تھے۔ مگر ان میں سے بہت کم الفاظ براہ راست عربی سے انگریزی میں داخل ہوئے ہیں۔ زیادہ تر فرانس اور اٹلی وغیرہ کے راستہ سے انگریزی میں پہنچے ہیں۔ اس سے اس علاقہ میں عرب۔ اسلامی تہذیب کی فوقیت کا اندازہ ہوتا ہے جو اس کو سائنسی میدان میں حاصل تھی: The preponderance of technical or scientific words entering English from Arabic during the Middle Ages suggests the general superiority of Arab- Islamic civilisation in the area of scientific achievement during this period. (p. 24) عجیب بات ہے کہ عربی زبان کی برتری کا تذکرہ کرنے والے ماہنامہ کا نام انگریزی "گولڈن فالکن" رکھا گیا ہے۔ طیران الخلیج (گلف ایئر) کے فلائٹ میگزین (Goldenfalcon) کا شمارہ اکتوبر مکمل دیکھا۔ اس کے مذکورہ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انگریزی کے بہت سے الفاظ عربی زبان سے لئے گئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page