Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 360

By Maulana Wahiduddin Khan

گلف ایر کی سروس اچھی تھی۔ تاہم دو حصه اور ابو ظہبی دونوں جگہ اس کی لینڈ نگ ایسی تھی جس کو رف لینڈ نگ ہی کہا جائے گا۔ سفر کے دوران ہموار پرواز کا انحصار موسم پہ ہوتا ہے۔ اور لینڈ نگ کے وقت ہموار لینڈ نگ کا انحصار پائلٹ پر۔ دوسرے قطر سے نکلنے والے عربی اخبار العرب کا شمارہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۱ دیکھا۔ اس کی ایک خبر کا عنوان تھا: ۲۷۰۰ لغة فی العالم ( دنیا میں ۲۷۰۰ زبانیں ہیں)۔ اس میں ترکی کے ذرائع سے بتایا گیا تھا کہ ساری دنیا میں مروج زبانوں کی مجموعی تعداد ..۲۷ تک پہنچتی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی زبانیں یہ ہیں۔ چینی ، انگریزی ، اسپینی ، ہندی ، ترکی۔ اس خبر کو پڑھ کر میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور پھر اس کی مناسبت سے نظیر اکبر آبادی کا یہ شعر یاد آگیا : ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج میں جانتے بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں خبر کو پڑھ کر میرے ذہن میں کیا خیال آیا تھا ، اس کو میں ناظرین کے اوپر چھوڑتا ہوں۔ جو لوگ میری تحریریں برابر پڑھتے رہے ہیں ان کے لئے اس کو قیاس کرنا مشکل نہیں۔ دوسرا کادسر اعربی اخبار الشرق (۱۴ اکتوبر) بھی دیکھا۔ اس کے صفحہ اول کی ایک خبر یہ تھی کہ شاہ حسین آرام کرنے کی خاطر اردن کے تخت کو چھوڑنے کے بارہ میں سوچ رہے ہیں (حسین يفكر في التخلى عن عرش الاردن) خبر میں بتایا گیا تھا کہ اردن اس وقت سخت ترین اقتصادی اور اجتماعی مشکلات سے دوچار ہے۔ ان ذمہ داریوں کو سنبھالنا شاہ حسین کے لئے سخت دشوار ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی حکومت پر باقی رہنے کے سوال نے ان کو ناتابل برداشت مصیبت میں ڈال دیا ( ان مسئلة الاستمرار في الحكم تدار هقته) شاعر نے کہا ہے کہ : جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سو امتکمل ہے۔ جو شخص جتنے بڑے مرتبہ پر ہو اتنا ہی زیادہ وہ مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ اصول شاہ اردن کے لئے جتنا درست ہے اتنا ہی وہ شاہ امریکہ کے لئے بھی درست ہے۔ اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ جہاز میں ایک نئی بات یہ تھی کہ عربی اور انگریزی کے ساتھ ہندی زبان میں بھی اعلانات کئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page