Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 363

By Maulana Wahiduddin Khan

اس ذیل میں مضمون نگار ( علی ربیعہ ) نے لکھا تھا کہ صحرا کے قافلے جس قاعدہ کا اتباع کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے اندر کے سب سے کمزور کی چال چلو ( سیروا اسیرا ضعفکم ) میں نے اس کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ یہ اصول صرف صحرائی سفر کے لئے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام سفروں کے لئے ہے۔ مثلاً آپ کو شہر کی سڑک پر ایک جلوس نکالنا ہے۔ آپ کی جماعت میں ۹۵ فیصد ایسے لوگ ہیں جن کے اندر برداشت کی طاقت ہے۔ مگر ۵ فیصد افراد میں برداشت کی طاقت نہیں۔ ایسی حالت میں آپ کو ۵ فیصد کا لحاظ کرتے ہوئے جلوس نہیں نکالنا چاہئے۔ کیوں کہ جلوس کے پانچ فیصد افراد بے برداشت ہو کر تشدد کر بیٹھیں گے اور پھر آپ کا جلوس ملت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ملت کی تباہی کا سبب بن جائے گا۔ دہلی ایئرپورٹ میں داخل ہوا تو " ڈیوٹی فری شاپ " کا ایک حصہ نظر سے گزرا۔ شیشہ کی الماری کے پیچھے شراب کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔ ایک طرف شیشہ کے اوپر خوبصورت اشتہار درج تھا۔ اوپر شراب کی دو خوبصورت بوتللوں کی تصویریں تھیں۔ اس کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ فرسٹ کلاس سفر کا ساتھی: First class travel companions جن لوگوں کو " فرسٹ کلاس " کا رتبہ مل جاتا ہے ، اس کے بعد ان کے لئے ساری اہمیت صرف تفریح کی رہ جاتی ہے۔ وہ شراب کو تفریح کا ذریعہ سمجھ کر اس کو اپنی زندگی کا ساتھی بنا لیتے ہیں۔ یہ زندگی کا کتنا کمتر استعمال ہے۔ زندگی کا سب سے بڑا استعمال یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حقائق اعلیٰ کی دریافت میں لگائے۔ مگر یہی سب سے اہم چیز دنیا میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ہمارے پاس کتابوں کے کئی بندل تھے جو قاہرہ سے ہمارے ساتھ آرہے تھے۔ کتابوں پر کسٹم وغیرہ نہیں ہوتا۔ میں نے سوچا کہ کسٹم کا عملہ ہم کو روک کر بندل کھوائے گا اور پھر غیر ضروری طور پر تاخیر ہوگی۔ مگر عین اس وقت محمد حنیف صاحب اتفاقاً وہاں آگئے جو ایئر پورٹ پر بڑے افسر ہیں۔ ان کی ہدایت پر کسٹم والے نے ہم کو رد کرنے کے بجائے ہماری گاڑی خود لے لی اور اس کو ٹیکسی تک پہنچایا۔ میں نے سوچا کہ کاش اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ایسا ہی معاملہ فرمائے اور میرے معاملہ کو اپنی رحمت سے آسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page