ایک سفر
Urdu book, p. 364
By Maulana Wahiduddin Khan
کر دے۔ دہلی ائیر پورٹ سے ہم” پری پیڈ ٹینسی کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ اس کا انتظام پولیس کی طرف سے کیا گیا ہے۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ اس سفر کے لئے ہم نے آپ کے آنس کو ڈیڑھ سو روپے ادا کئے ہیں۔ اس میں کتنا آپ کا ہے اور کتنا دفتر کا۔ ڈرائیور نے کہا کہ دفتر فی ٹیکسی دوروپیہ لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو زیادہ رقم نہیں۔ ڈرائیور نے کہا کہ ائیر پورٹ کے لئے یہاں چار سوٹیکسیاں ہیں اور ہر ایک ٹیکسی سے دو دو روپیہ لیتے ہیں۔ اس طرح ان کا حصہ ہم سے زیادہ ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ چار سوٹیکسیاں ہیں تو روزانہ ان کو ۸۰۰ روپیہ ملیں گے۔ ڈرائیور نے کہا کہ نہیں۔ ہر ٹیکسی ایک دن میں اوسطاً تین چکر ائیر پورٹ کا کرتی ہے۔ اس طرح ان کو ہر روز کم از کم ڈھائی ہزار روپے مل جاتے ہیں۔ یہ انفرادی عمل اور اجتماعی عمل کے فرق کی ایک مثال ہے۔ فرد کا حصہ ایک بار کے سفر پر ڈیڑھ سو روپیہ ہے۔ اور اجتماعی نظم کا حصہ صرف دور وپیہ۔ گر مجموعی نتیجہ کے اعتبار سے فرد کے حصہ میں صرف ساڑھے چار سو روپیہ آیا، اور اجتماعی نظم کو ڈھائی ہزار روپیہ مل گیا۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ اجتماعیت میں برکت ہے۔ ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۱ کی صبح کو میں اس وقت دہلی واپس پہنچا جب کہ یہاں کی مسجدوں سے فجر کی اذان کی آواز بلند ہو رہی تھی اور پوری فضا اس سے ہم آہنگ ہو کر بہ زبان خاموش یہ کہہ رہی تھی کہ رات ختم ہو گئی۔ بہت جلد افق سے نئے دن کا سورج طلوع ہونے والا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader