Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 367

By Maulana Wahiduddin Khan

مسافر تھے۔ جب مختلف ملکوں اور قومیتوں کے لوگ ایک امام کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوئے تو ایسا محسوس ہو کر جیسے کہ وہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً کے حکم کی عملی تصدیق کر رہے ہیں۔ یہ کیسا عجیب سبق ہے جو مسجد کے ماحول میں مسلمانوں کو دیا جاتا ہے۔ اگر یہ سبق مسلمانوں کی پوری زندگی میں شامل ہو جائے تو ان کے اندر عظیم انقلاب آجائے۔ نماز پڑھ کر باہر نکلا تو مسجد کے گیٹ پر ایک صاحب ملے۔ انھوں نے اپنا نام محمد ظفر عادل بتایا۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک سنگین مرض میں مبتلا ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر جواب دینے لگے تھے۔ چنانچہ میرے اندر افسردگی (depression) کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ عین اس وقت اتفاق سے آپ کی کتاب "راز حیات" پڑھنے کو ملی۔ اس کو پڑھ کر میری حالت بالکل بدل گئی۔ میرے اندر نیا یقین جاگ اٹھا۔ جو کام دوا نہ کر سکی تھی وہ کام اس کتاب نے کر دیا۔ لاہور میں میرا قیام جناب کرامت شیخ کے یہاں تھا۔ شام کو یہاں مختلف اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب جمع ہو گئے۔ گیارہ بجے رات تک یہ مجلس جاری رہی۔ علمی انداز میں تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ پاکستان کا اقتصادی مرکز کراچی ہے۔ اسلام آباد اس کا سیاسی مرکز ہے۔ لاہور کو پاکستان کے علمی اور تمدنی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ لاہور اگرچہ قدیم شہر ہے ۔ مگر اس کی قدیم تاریخ کے بارہ میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔ عز نوی خاندان نے ۱۱۵۲ء میں اس کو اپنی راجدھانی بنایا۔ اس وقت سے وہ باقاعدہ طور پر تاریخ میں ذکر کیا جانے لگا۔ ۱۳۹۸ میں اس کو تیمور کی فوجوں نے تباہ کر دیا تھا۔ مبارک شاہ نے ۱۴۲۲ میں دوبارہ اس کو آباد کیا۔ ۱۴۵۱ میں بہلول خاں لودی نے اس پر اپنی حکومت قائم کی۔ مغل حکمران بابر کی فوجوں نے ۱۵۲۶ میں اس پر قبضہ کر لیا، اور نگ زیب کی وفات (۱۷۰۷) کے بعد ۱۷۹۹ میں رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کر کے اس کو اپنی وسیع سلطنت کی راجدھانی قرار دیا۔ افغانی حکمران شاہ زماں نے ۱۲ اپریل ۱۸۰۱ کو اعلان کیا کہ وہ رنجیت سنگھ کو لاہور کا گورنر تسلیم کرتا ہے۔ مگر رنجیت سنگھ نے اس حیثیت کو قبول نہیں کیا اور "ہمارا جہ پنجاب" ہونے کا اعلان کر دیا۔ ۱۸۴۹ اسے لاہور انگریزوں کی ماتحتی میں آگیا، ۱۹۴۷ اسے وہ پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page