Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 368

By Maulana Wahiduddin Khan

آج اگر مکہ میں کوئی بڑا واقعہ ہو تو اسی دن اس کی خبر پنجاب کے اس شہر میں پہنچ جائے گی۔ مگر ساڑھے تیرہ سو سال پہلے دنیا کتنی مختلف تھی۔ ۶۳۰ ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہوئے۔ اسی ۶۳۰ میں چینی سیاح ہوان سانگ (Hsuan Tsang) سفر کرتا ہوا شمالی پنجاب پہنچا۔ مگر اس کے سفر نامہ میں نہ لاہور کا ذکر ہے اور نہ فتح مکہ کا۔ قدیم دنیا اور جدید دنیا میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ پچھلے نبیوں کے ساتھ یہی واقعہ پیش آیا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروؤں میں علم کی زبردست روح پھونکی۔ اس کی وجہ سے دور اول ہی میں لوگوں نے علم اور ادب میں مہارت پیدا کی اور اسلامی واقعات کو کتابوں کی صورت میں مدون کیا۔ اس طرح اسلام کی تاریخ ماضی کے مذاہب کے برعکس گم ہونے سے محفوظ رہ گئی۔ جس زمانہ میں میں لاہور میں تھا انھیں دنوں میں برطانیہ کی لیڈی ڈائنا لاہور آئیں ۔ ۲۵ ستمبر کو انھوں نے لاہور کی بادشاہی مسجد کی زیارت کی۔ ہندوستان ٹائمز (۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء) میں ایک تصویر چھپی ہے۔ اس میں ایک عورت سر پر دوپٹہ اوڑھے ہوئے اور ننگے پاؤں مسجد کے اندر چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تصویر کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں : A barefooted Princess Diana takes a walk inside historical Badshahi mosque on wensday during her one day visit to Lahore city. لاہور کے روزنامہ امروز (۲۶ ستمبر) میں "شہزادی ڈائنا سے اسلامی ذہن کے مردوں کا مصافحہ" کے عنوان سے ایک دلچسپ نوٹ تھا۔ اس میں درج تھا کہ ۔ دنیا نے پاکستان ٹیلی ویژن کے خبر نامہ میں یہ خوبصورت منظر بھی دیکھا کہ اعجاز الحق سمیت اسلامی ذہن کے وفاقی وزراء والہانہ انداز میں شہزادی ڈائنا سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ (دوسری طرف ) ہمارے ملک میں جب کسی عورت کو اقتدار یا عروج حاصل ہوتا ہے تو لوگ ایسی تصاویر تلاش کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں، جس میں اس خاتون نے کسی مرد سے ہاتھ ملايا ہو ۔ " اردو زبان یہاں کے لوگوں کے لئے فیشن کی مانند ہے۔ وہ فخر کے ساتھ اردو بولتے ہیں اور اس کو بہت پسند کرتے ہیں ۔" ایک صاحب نے کہا۔ میں نے اپنے تجربہ میں اس کو بالکل درست پایا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page