ایک سفر
Urdu book, p. 376
By Maulana Wahiduddin Khan
قومیت کی حیثیت سے پاکستان میں جگہ مل سکے۔ مسٹر الطاف حسین نے کہا کہ ہر مہاجر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے جائز حقوق کو ناجائز طریقہ سے سلب کر لیا گیا ہے۔ اور تعلیم، روزگار، ٹیلیویژن، حتی کہ کھیلوں تک میں ان کے ساتھ امتیاز کیا جاتا ہے۔ انھوں نے شکایت کی کہ مہاجروں کو کرکٹ کی ٹیم میں منتخب ہونے کا اہل نہیں سمجھا جاتا اور اگر بعض خوش قسمت ایسے ہیں جنھیں منتخب کیا گیا تھا تو ان کو عروج پر پہنچنے سے پہلے ریٹائر کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کراچی تک کی پولیس پنجابیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس محکمہ میں کسی مہاجر کو ملازمت نہیں دی جاتی۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ پاکستان اب اپنے قیام کی نصف صدی پوری کر رہا ہے۔ مگر وہاں کے اردو خواں مسلمانوں کے لئے بھی وہی مسائل ہیں جو ہندوستان کے اردو خواں مسلمانوں کو پیش آرہے ہیں۔ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ ہندوستان اور پاکستان یا ہندو اور مسلم کا نہیں ہے۔ بلکہ ذہنیت کا ہے۔ یہ دراصل ذہنیت ہے جو تمام مسائل پیدا کرتی ہے، اور دوبارہ یہ ذہنیت ہی ہے جو تمام مسائل کو ختم کرنے والی ہے۔ ایک لفظ میں ــ تمام مسائل کا سبب غیر حقیقت پسندی ہے۔ اور تمام مسائل کا حل حقیقت پسندی۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے یہاں اسلامی ذہن بنانے کے لئے بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر پچاس سالہ کوشش کے با وجود اب تک اسلامی انداز میں لوگوں کی ذہنی تربیت نہ ہو سکی۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کے بیان کے نصف ثانی سے اتفاق ہے۔ مگر مجھے اس کے نصف اول سے اتفاق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی ذہن بنانے کی حقیقی کوشش ہی نہیں کی گئی، پھر جس چیز کی کوشش ہی نہ کی گئی ہو وہ وجود میں کیوں کر آسکتی ہے۔ صرف اسلام کا نام لینے سے اسلامی تربیت نہیں ہوتی۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ پاکستان کے پندرہ روزہ المنبر کے تازہ شمارہ ۲۵ ستمبر ۱۹۹۱ میں ”ضیاء الحق شہید فاؤنڈیشن“ کے زیر اہتمام ہونے والی کانفرنس کا تفصیلی تذکرہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ـــ ”ضیاء الحق فاؤنڈیشن کو فوری طور پر قوم کے کردار اور فکر کی تہذیب و تربیت کا کام شروع کرنا چاہئے“۔ مگر محض اس طرح اسلام کا نام لینے سے اسلامی فکر اور اسلامی کردار پیدا نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader